امید اور حوصلے کا، عزم اور ارادے کا نام: غزہ
مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
امید اور حوصلے کا، عزم اور ارادے کا نام: غزہاسرائیل کی تخلیق کردہ تباہی و بربادی  کے بالکل درمیان 'خان یونس' میں منعقدہ اجتماعی تقریبِ عروسی میں 54 فلسطینی جوڑوں نے ازدواجی زندگی کا آغاز کیا
فلسطینی جوڑے خان یونس کے حماد شہر میں ایک اجتماعی شادی کی تقریب میں شریک ہوتے ہیں۔ / AP

اسرائیل  کی تخلیق کردہ تباہی و بربادی  کے بالکل درمیان غزّہ کے شہر 'خان یونس 'میں منعقدہ اجتماعی نکاح کی تقریب میں 54 فلسطینی جوڑوں نے ازدواجی زندگی کا آغاز کیا ہے۔

ایمن حسن لاوا، روایتی فلسطینی ڈیزائن سے آراستہ  عروسی لباس پہنے ہوئے تھیں اور حکمت لاوا سوٹ میں ملبوس تھے ۔  یہ جوڑا، اسی لباس میں ملبوس دیگر جوڑوں کے ہمراہ،  ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جنوبی غزہ کی منہدم عمارتوں کے پاس چل رہے تھے ۔

یہ 27 سالہ فلسطینی  جوڑا بروز منگل  ،زیرِ محاصرہ علاقے میں، منعقدہ اجتماعی تقریبِ عروسی میں  شامل 54 جوڑوں میں سے ایک ہے۔ یہ تقریب، دو سالہ سفّاک نسل کشی جنگ  کے بعد، فلسطینیوں کے لئے    امید کا ایک نایاب لمحہ تھی۔

لاوا نے کہا ہے کہ "ہر چیز کے باوجود  ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے اور اللہ نے چاہا تو یہ  جنگ کا اختتام ثابت ہو گی"۔

شادیاں فلسطینی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہیں جو غزہ میں اسرائیلی حملوں کے دوران مفقود  ہو گئی تھیں۔ موجودہ تقریب میں عروسی مراسم اگرچہ سابقہ زمانوں کی عروسی تقریبات جیسے نہیں ہیں  لیکن ایک نازک جنگ بندی کے بعد  اور کچھ نہیں تو اس تقریب کے ساتھ یہ روایت دوبارہ شروع ہو رہی ہے ۔

جنوبی شہر خان یونس میں ایک بڑے اجتماع نے  فلسطینی پرچم لہرا کر جشن منایا لیکن غزّہ بھر میں جاری بحران نے ان  خوشیوں  کو دھندلائے رکھا۔

دلہن ایمن  اور دلہا حکمت سمیت  غزہ کے دو ملین  سے زیادہ شہری اسرائیلی حملوں کے باعث بے گھر ہو چکے ہیں اور پورے پورے شہر ملبے کے ڈھیر بن گئے  ہیں۔ امدادی  سامان کی قلت اور جاری نسل کشی کے اثرات   فلسطینی عوام  کی روزمرّہ زندگی کو شدّت سے متاثر کر رہے ہیں۔

دلہا حکمت نے کہا ہے کہ "باقی دنیا کی طرح ہم بھی خوش رہنا چاہتے ہیں۔ میں گھر، نوکری اور عام لوگوں کی طرح زندگی گزارنے کا خواب دیکھا کرتا تھا لیکن اس وقت  میرا سب سے بڑا خواب یہ ہے کہ رہنے کے لیے کوئی خیمہ مل جائے"۔

حکمت نے مزید کہا ہے کہ "زندگی آہستہ آہستہ واپس لوٹ رہی ہے مگر ویسی نہیں جیسی ہم نے امید کی تھی"۔

اس جشن کی مالی معاونت 'الفارس الشہیم' نے کی۔ تنظیم نے تقریب کے علاوہ جوڑوں کو معمولی رقم اور  نئی زندگی کے آغاز  کے لیے دیگر ضروری اشیاء بھی فراہم کیں۔

فلسطینیوں کے لیے شادیاں عموماً پورا دن جاری رہنے والی  دھوم دھام والی تقریبات ہوتی ہیں اور انہیں بہت سے خاندانوں کے مستقبل کا تعین کرنے والی ایک اہم  سماجی و معاشی  ترجیح سمجھا جاتا ہے۔ ان عروسی تقریبات میں مخصوصی فلسطینی نقوش والے لباس پہنے جاتے ہیں، خوشی و مسّرت کے اظہار کے لئے  رقص کئے جاتے ہیں اور کھانوں سے بھرے دسترخوانوں سے مہمانوں کی تواضع کی جاتی ہے۔

حالیہ اجتماعی تقریبِ عروسی  سے چند جھلکیاں درج ذیل  ہیں:

دریافت کیجیے
آبنائے ہرمز کا نام آبنائے ٹرمپ ہونا چاہیئے:ٹرمپ
اردن کے امریکی اڈے پر ایران کا حملہ،تفصیلات سامنے آ گئیں
امریکہ کے ایرانی ٹینکروں پر حملے، مشرق وسطی میں تناؤ بڑھ گیا
نیتین یاہو نے مجرمانہ غفلت کا ارتکاب کیا ہے:نفتالی بینیٹ
حماس کا اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے شواہد چھپانے کا الزام
حوثیوں کے  حملے، سعودی عرب کی مذمت
اسرائیلی حملوں میں جنوبی لبنان میں دو شیرخوار بچوں سمیت کم از کم 11 افراد لقمہ اجل
ہم پر پابندیاں لگانے سے امریکہ کو زیادہ نقصان ہوگا:ایران
اسرائیل کی جنوبی شام پر بمباری
یمنی فوج کا شمالی الجوف میں حوثی فوجی کیمپ پر حملہ
ایران:امریکی حملوں کی مذمت،جوابی کاروائی کی دھمکی
یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان تصادم میں درجنوں افراد ہلاک
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی
ابوظہبی حکومت:ایران باز رہے ،جواب سخت ہوگا
اسرائیلی وزیر بن گویر نے فلسطینی خواتین قیدیوں کی تذلیل کی
فوجی تنصیب کو وسعت دینے کی خاطر فلسطینی زمین غصب کر لی
پیزشکیان: اگر امریکہ اسلام آباد معاہدے پر عمل کرتا ہے تو آبنائے ہرمز کھل سکتی ہے