اسرائیل: لبنانی شہری دریائے زہرانی کے جنوبی علاقے خالی کر دیں
فوج بھاری فضائی حملے جاری رکھے گی لہٰذا شہری "فوری طور پر" وہاں سے نکل جائیں: اویچائے ادرائی
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے باشندوں کو دریائے زہرانی کے جنوبی علاقے خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسرائیل کے فوجی ترجمان اویچائے ادرائی نے آج بروز جمعرات سوشل میڈیا'ایکس' سے جاری کردہ بیان میں حزب اللہ کے ساتھ جاری لڑائی کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج بھاری فضائی حملے جاری رکھے گی لہٰذا شہری "فوری طور پر" وہاں سے نکل جائیں۔
اس نے کہا ہے کہ "فضائی حملے جاری ہیں اور فوج علاقے بھر میں پوری طاقت کے ساتھ آپریشن کر رہی ہے۔ اپنی حفاظت کی خاطر گھروں کو فوری طور پر خالی کر دیں اور دریائے زہرانی کے شمال کی طرف چلے جائیں۔"
ادرائی نے کہا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ حزب اللہ کی سرگرمیاں ہیں اس لئے جو شہری گروپ کے ارکان یا تنصیبات کے قریب ہوں گے، وہ خطرے میں ہوں گے۔
ادرائی نے مزید کہا ہے کہ "حزب اللہ کے جنگجوؤں، بنیادی ڈھانچوں یا جنگی آلات کے قریب موجود ہر شخص اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ دریا کے جنوب میں رہنا یا مزید جنوب کی طرف جانے کی کوشش کرنا شہریوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے"۔
لبنان-اسرائیل مذاکرات
یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی رات جاری کردہ بیان میں اعلان کیا تھا کہ اسرائیلی اور لبنانی رہنما تقریباً تین دہائیوں کے بعد پہلی بار جمعرات کو براہ راست ملاقات کریں گے۔
یہ بیان منگل کے روز وزارت خارجہ میں لبنان کی سفیر ندیٰ حمادہ اور اسرائیل کے سفیر یخییل لیٹر کی شرکت سے منعقدہ اجلاس کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
مذکورہ اجلاس کی میزبانی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی۔ روبیو کے وفد میں لبنان میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ، محکمہ خارجہ کے مشیر مائیکل نیڈہم اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز بھی شامل تھے۔
تاہم اجلاس میں حزب اللہ کی نمائندگی شامل نہیں تھی۔
واضح رہے کہ لبنان، 2 مارچ کو مشرق وسطیٰ کی جنگ میں شامل ہوا تھا۔ اسرائیل اور امریکہ نے ایران کے خلاف اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت کا سبب بننے والی جنگ کے جواب میں حزب اللہ نے اسرائیلی ٹھکانوں پر میزائل داغے تھے۔
تب سے اسرائیل نے لبنان پر حملے تیز کر دیئے اور ملک کے جنوبی حصوں میں برّی کارروائیاں مزید پھیلا دی ہیں۔ لبنان میں اب تک 2,000 سے زائد افراد ہلاک اور 10 لاکھ سے زائد بے گھر ہو چکے ہیں۔