یوکرین زیلینسکی کی قیادت میں کوئی بھی علاقہ نہیں چھوڑے گا: یرمک

جب تک زیلنسکی صدر ہیں، کوئی بھی اس بات کا حساب کتاب  نہ کرے کہ ہم زمین چھوڑ دیں گے۔  انہوں نےکیف کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کی کہ وہ روسی افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہو گا

By
یرماک نے کہا کہ کسی کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ زیلنسکی روسی افواج کے زیرِ قبضہ زمین چھوڑ دیں گے۔ [فائل فوٹو]

یوکرینی چیف آف اسٹاف اندری یرمک نے جمعرات کو  دی اٹلانٹک سے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ  صدر وولودیمیر زیلنسکی روس کے ساتھ امن کے بدلے کسی علاقے کی حوالگی پر رضا مند نہیں ہوں گے۔

یِرمک نے  کہا، "جب تک زیلنسکی صدر ہیں، کوئی بھی اس بات کا حساب کتاب  نہ کرے کہ ہم زمین چھوڑ دیں گے۔  انہوں نےکیف کے اس دیرینہ موقف کی تصدیق کی کہ وہ روسی افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں سے دستبردار نہیں ہو گا۔”

یرمک کے بیان سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ ماسکو  کے حملے اسی صورت ختم  ہوں  گے جب یوکرینی فوجیں ان علاقوں سے دستبردار ہو جائیں گی جنہیں کریملن اپنا حصہ قرار دیتا ہے  اور خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو روسی قوتیں انہیں زبردستی قبضے میں لے لیں گی۔

کھرغزستان کے دورے کے دوران پوتن نے کہا: "اگر یوکرینی افواج ان علاقوں کو چھوڑ دیں  جن پر ہم قابض ہیں، تو ہم جنگی کارروائیاں روک دیں گے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں، تو ہم اسے عسکری طریقے سے حاصل کر لیں گے۔"

روس اس وقت تقریباً یوکرین کے  ایک بٹا پانچ  حصے پر قابض ہے، اور زیرِ قبضہ زمین کی حیثیت امن عمل کی مرکزی رکاوٹوں میں سے ایک بنی ہوئی ہے۔

روسی فوج نے مشرقی یوکرین میں  جہاں یوکرینی افواج تعداد اور جنگی آلات کے لحاظ سے کمزور ہیں سست مگر مسلسل پیش قدمی جاری رکھی ہے ۔

امریکی امن منصوبہ

دریں اثنا، واشنگٹن نے جنگ ختم کرنے کی کوششیں دوبارہ تیز کر دی ہیں اور ایک غیر متوقع امن منصوبہ پیش کیا ہے ، جس کے بارے میں امریکی حکام کا خیال ہے کہ  اس کی بدولت  مستقبل میں ماسکو اور کیف دونوں کے ساتھ بات چیت میں بہتر ی لائی جائیگی۔

رپورٹس کے مطابق منصوبے کا ایک ابتدائی مسودہ — جو یورپی اتحادیوں کی رائے کے بغیر تیار کیا گیا تھا — اس تصور کا حامل تھا کہ یوکرین مشرقی دونتسک صوبے سے پیچھے ہٹ جائے اور امریکہ عملی طور پر دونتسک، کریمیا اور لوہانسک کو روسی علاقہ تسلیم کر لے۔

کیف نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے  جو روس کے زیر ِ قبضہ  علاقوں کو جائز حیثیت دے۔

یوکرینی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ کسی بھی مذاکراتی سمجھوتے میں مغرب کی جانب سے ایسی مضبوط سلامتی ضمانتیں شامل ہونی چاہئیں جو مستقبل میں روسی حملوں کو روک سکیں۔