آسٹریلوی پارلیمان کے سامنے اسرائیلی صدر کے دورے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری
فلسطینی پرچموں اور سیاستدانوں کی زبانی حمایت نے البانیز حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔ ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے باوجود اسرائیلی صدر کا دورہ آسڑیلیا جاری
آسٹریلیا کے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے سرکاری دورے کے خلاف احتجاج کیا۔ فلسطینی پرچموں اور سیاستدانوں کی زبانی حمایت نے البانیز حکومت پر دباؤ بڑھا دیا۔
بدھ کے احتجاج میں ACT سینیٹر ڈیوڈ پوکاک اور گرینز کی رہنما لارِسا واٹرز سمیت کئی نمایاں شخصیات شامل تھیں۔ اسی دوران آزاد رکنِ پارلیمان زالی سٹیگل نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مطالبہ کیا کہ غزہ میں آسٹریلوی امدادی کارکن زومی فرانکم کی ہلاکت کے سلسلے میں آسٹریلیا ہرزوگ سے کس نوعیت کی جواب طلبی مانگے گا، اس بارے میں وضاحت دی جائے۔
فرانکم ورلڈ سنٹرل کچن کے اُن امدادی کارکنوں میں شامل تھیں جو اپریل 2024 میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے، یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے پورے ملک میں غم و غصے اور اسرائیل کے ساتھ آسٹریلیا کے تعلقات پر دوبارہ نظرِ ثانی کو جنم دیا تھا۔
فرانکم کی موت پر ہرزوگ کے ساتھ بات چیت
وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ انہوں نے فرانکم کی موت کا معاملہ ہرزوگ کے سامنے اٹھایا ہے ، انہوں نے 'حکومت کے متعدد خدشات' کا بھی حوالہ دیا، اور زور دیا کہ تفتیش جاری رہنے کے دوران کینبرا شفافیت کی توقع رکھتا ہے۔
البانیز نے کہا کہ 'ہم بھرپور جواب طلبی کے لیے دباؤ جاری رکھیں گے، جس میں کسی بھی مناسب فوجداری چارج کا اطلاق بھی شامل ہے۔ ہم شفافیت اور مناسب کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھیں گے۔'
ہرزوگ کے چار روزہ دورے کا آغاز پیر کو ہونے کے بعد سے آسٹریلیا بھر میں مسلسل احتجاجوں کا سامنا رہا، اور ہفتے کے اوائل میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد تناؤ بڑھ گیا۔
کئی شہروں میں ہزاروں افراد نے مارچ کیا، اور وائرل ویڈیوز میں نیو ساوتھ ویلز پولیس کو نمازیوں کو نماز کے دوران زبردستی ہٹاتے دکھایا گیا، جس پر شدید مذمت ہوئی۔
آسٹریلین نیشنل ائمّہ کونسل نے مناظر کو ' تشویش ناک، نا زیبا اور بالکل ناقابلِ قبول' قرار دیا، جبکہ آسٹریلیا کے اسلاموفوبیا کے خصوصی ایلچی آفتاب ملک نے تفتیش کا مطالبہ کیا اور نیو ساوتھ ویلز کے وزیراعلیٰ کرس مِنز سے عوامی معافی کا اعلان کرنے کا تقاضا کیا۔
ہرزوگ کے لیے سخت سکیورٹی
ہرزوگ کی سڈنی آمد کے بعد سے انہیں سخت سکیورٹی کے ساتھ رکھا گیا ہے، جس میں پولیس، اسرائیلی سکیورٹی عملہ اور سنائپرز شامل ہیں، جہاں انہوں نے دسمبر میں بوندی حملے کے بعد یہودی برادری کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔
یہ احتجاجی مظاہرے ،غزہ میں اسرائیل کی جنگ پر بین الاقوامی سطح پر تنقید میں اضافہ ہونے کے ایام میں ہو رہے ہیں ۔
گزشتہ سال اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک کمیشن نے اسرائیل پر نسلِ کشی کا الزام لگایا تھا، اس حوالہ سے ہرزوگ کے وہ بیانات سامنے لائے گئے جو 7 اکتوبر 2023 کو فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کے سرحد پار حملے کے بعد دیے گئے تھے۔ اسرائیل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی ظالمانہ جنگ میں 72,000 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 171,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، اور غزہ کے تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
وزارت نے کہا کہ امن معاہدے کے باوجود اسرائیلی حملے جاری رہے ہیں اور اس کے نافذ ہونے کے بعد سے کم از کم 576 فلسطینی مارے گئے ہیں۔