ایران نے پابندیاں نرم کر دیں
ایران نے احتجاجی مظاہروں کے دوران عوام پر عائد کردہ بعض پابندیاں نرم کر دیں
ایران نےاحتجاجی مظاہروں کے دوران عوام پر عائد کردہ بعض پابندیاں نرم کر دیں اور کئی دنوں کے بعد آج بروز منگل پہلی بار بیرونِ ملک فون کرنے کی اجازت دی ہے۔
کئی ایرانیوں نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہےکہ ملک سے باہر مقیم افراد انہیں ٹیلی فون نہیں کر سکے علاوہ ازیں انٹرنیٹ اور پیغام رسانی سروس بھی تاحال بحال نہیں کی گئی۔حکومت کی منظور شدہ ویب سائٹیں کھُل رہی ہیں لیکن ایران کے اندر انٹرنیٹ صارفین بیرونِ ملک کسی بھی چیز تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ۔
یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پابندیاں مزید نرم ہوں گی یا نہیں۔
انٹرنیٹ کی بندش
ایک مبّصر تنظیم نے آج بروز منگل جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ایرانی حکام کی طرف سے لاگو کی گئی ملک گیر انٹرنیٹ بندش کا مقصد مظاہرین کے خلاف مداخلت کے قدو کاٹھ کو پوشیدہ رکھنا ہے۔ ملک بھر میں 108 گھنٹے سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ بند ہے۔
اسرائیل چوکس
اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ ہم، جاری احتجاجی مظاہروں کے باعث ایران میں کسی بھی "حیران کن منظرنامے" کے لیے چوکس ہیں۔ شہریوں کے لیے ہدایات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی جیسا کہ ہر واضح خطرے سے قبل کی جاتی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈئیر جنرل ایفی ڈیفرن نے ایکس پر لکھا ہے کہ "اسرائیل نے گرمیوں کے دوران ایران کے جوہری پروگرام پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں 12 روزہ جنگ ہوئی جس میں قریباً 1,200 ایرانی اور تقریباً 30 اسرائیلی ہلاک ہوگئے تھے۔
گذشتہ ہفتے کے دوران ایران نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیل یا امریکہ نے ملک پر حملہ کیا تو وہ اسرائیل پر حملہ کردے گا۔
پیر کو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے " تمام" ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے بارہا دھمکی دی ہے کہ اگر ایرانی حکام نے احتجاجی مظاہروں کو دبانے کے لیے مہلک طاقت استعمال کی تو وہ ایران پر حملہ کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تہران کے ساتھ مذاکرات کے امکان تلاش کرنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا تھا۔