گرین لینڈ نے امریکی دباؤ کے خلاف آرکٹک میں نیٹو مشن کی تجویز پیش کر دی

پولسن نے پیر کو برسلز میں نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سے ملاقات کے بعد گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈٹ کے ساتھ مشترکہ  پریس بریفنگ میں آگاہی کرائی۔

By
"اگر امریکہ کل نیٹو سے دستبردار ہو جائے، تو ہمیں اکیلے معاملات سنبھالنے میں ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا،" وزیر کا کہنا ہے۔ / AFP

ڈنمارک کے وزیر دفاع ٹرولس لند پولسن نے کہا ہے کہ ڈنمارک نے گرین لینڈ کے ساتھ مل کر آرکٹک میں نیٹو مشن کی تجویز سیکریٹری جنرل مارک روٹ کے سپرد کر دی ہے،  تو  امریکہ کی اس خودمختار ڈینش علاقے پر قبضہ کرنے کی دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولسن نے پیر کو برسلز میں نیٹو سیکریٹری جنرل مارک روٹ اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس سے ملاقات کے بعد گرین لینڈ کی وزیر خارجہ ویویان موٹزفیلڈٹ کے ساتھ مشترکہ  پریس بریفنگ میں آگاہی کرائی۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ڈنمارک اور گرین لینڈ نے روٹ کو آرکٹک میں نیٹو مشن کی تجویز دی ہے اور کہا، "ہماری اس  موضوع پر بات ہوئی  ہے اور ہم نے اسے تجویز بھی کیا ہے۔"

تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ روٹ نے اس تجویز پر کیا ردعمل دیا ہے۔

پولسن نے یہ بھی دہرایا کہ وہ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت جاری رکھیں گے اور اس بات پر زور دیا کہ یہ ڈنمارک نہیں ہوگا جو "بات چیت پر زور دینے سے دستبردار ہو جائے گا۔"

انہوں نے کہا، "اگر امریکہ کل نیٹو سے دستبردار ہو جائے تو ہمیں اپنے بل بوتے پر اسے چلانے میں زبردست چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ کے بعض بیانات "واقعی تکلیف دہ" ہیں۔

موٹزفیلڈٹ نے دہرایا کہ اتحادیوں کے درمیان تعاون اور ترقی کے ذریعے "تمام دروازے کھلے رہتے ہیں" اور "باہمی دفاع پر توجہ" کے ساتھ ان کا دفاع "امریکہ کے دفاع سے جڑا ہوا ہے۔"

انہوں نے مزید کہاکہ"ہمارے لیے گرین لینڈ کے لوگوں کے طور پر، ہماری شمولیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہم گرین لینڈ کے عوام کی طرف سے بات کر سکیں اور ان کے مفادات میں اچھے حل تلاش کرنے میں بھی حصہ ڈالیں۔ ہم نے یہ کام اچھے طریقے سے انجام دیا ہے۔"

گرین لینڈ، جو سلطنتِ ڈنمارک کے اندر ایک خود انتظامی علاقہ ہے، اپنے اسٹریٹجک محل وقوع اور وسیع معدنی وسائل کی وجہ سے امریکی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، علاوہ ازیں روس اور چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے بارے میں خدشات بھی سامنے آئے ہیں۔

ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ قومی سلامتی کے لیے امریکہ کو گرین لینڈ حاصل کرنا چاہیے تاکہ روس یا چین کو اس علاقے پر کنٹرول حاصل ہونے سے روکا جا سکے۔ انہوں نے ان اتحادیوں  پر محصولات  عائد کرنے کی دھمکی بھی دی ہے جو اس کوشش کی مخالفت کریں گے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس علاقے کی فروخت کی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور جزیرے پر ڈنمارکی حاکمیت کی توثیق کی ہے۔