انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردی
انڈونیشیا نے 16 سال سے کم عمر کے بچوں پر سوشل میڈیا پر پابندی عائد کردیجنوب مشرقی ایشیائی ملک نے یہ اقدام اس مہینے کے اوائل میں متعارف کرایا تھا، جس کی وجہ نابالغوں میں آن لائن فحش مواد، سائبر بُلیئنگ اور انٹرنیٹ کی لت کے بڑھتے ہوئے خدشات بتائے گئے تھے۔
بچوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی وسیع تر بین الاقوامی مہم کے درمیان انڈونیشیا نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ / Reuters
11 گھنٹے قبل

انڈونیشیا میں ہفتے کے روز 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے قومی سطح پر سماجی میڈیا کے استعمال پر پابندی نافذہو گئی  ہے،  حکام نے ٹیکنالوجی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ 'سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں'۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک نے یہ اقدام اس مہینے کے اوائل میں متعارف کرایا تھا، جس کی وجہ نابالغوں میں آن لائن فحش مواد، سائبر بُلیئنگ اور انٹرنیٹ کی لت کے بڑھتے ہوئے خدشات بتائے گئے تھے۔

وزیر مواصلات میوٹیا ہافد نے کہا کہ پلیٹ فارمز کو نئے قواعد کی مکمل پابندی کرنی چاہیے ورنہ انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

پلیٹ فارمز نئے قواعد کی پابندی کے لیے اقدامات کر رہے ہیں

ہافد نے کہا کہ X اور Bigo Live نے پہلے ہی ضابطے کے مطابق کم از کم صارف کی عمر میں تبدیلی کر دی ہے، جبکہ دیگر پلیٹ فارمز سے فوری طور پر کارروائی کرنے کا کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا، 'ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعمیل کے معاملے میں سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں،' اور یہ بھی کہا کہ انڈونیشیا میں کام کرنے والی تمام کمپنیاں قومی قوانین کی پابندی کریں گی۔

ٹک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ حکام کے ساتھ کام کر رہا ہے اور اپنی تعمیل کی کوششوں کے حصے کے طور پر 16 سال سے کم عمرکے اکاوئنٹس کے حوالے سے اقدامات کر رہا ہے۔

عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دباؤ کا حصہ

انڈونیشیا کا یہ اقدام بچوں میں سماجی میڈیا کے استعمال کو محدود کرنے کی عالمی سطح پر بڑھتی کوششوں کے درمیان آیا ہے۔ آسٹریلیا نے دسمبر میں اسی نوعیت کی پابندیاں متعارف کرائیں، جبکہ برطانیہ کے قانون سازوں نے بھی نابالغوں کو سوشل پلیٹ فارمز سے روکنے کے مجوزہ اقدامات کی حمایت کی ہے۔

متحدہ امریکہ میں بھی تشویش عدالتوں تک پہنچ چکی ہے، جہاں لاس اینجلس کے ایک جیوری نے حال ہی میں بڑی پلیٹ فارمز کو ان کی سروسز کے 'لت پیدا کرنے والے ڈیزائن' سے منسلک نقصان کا ذمہ دار قرار دیا۔

یہ پیش رفت دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی نگرانی کو اجاگر کرتی ہے، جب کہ حکومتیں کم عمر صارفین کے لیے سخت حفاظتی اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔