پاکستان کے پی ایف ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ، تین اہلکار شہید، تینوں دہشت گرد ہلاک
پشاور میں ہیڈ کوارٹر پر حملے کے وقت سیکیورٹی فورسز نے دو حملہ آوروں کو ہلاک کردیا اور تیسرے نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے حملے کا خاتمہ ہوگیا۔
پولیس اور ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ پیر کی صبح شمال مغربی پاکستان میں سکیورٹی فورسزکے ایک ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں کم از کم تین اہلکار شہید ہو گئے اور تینوں حملہ آور بھی اس حملے میں ہلاک ہو گئے۔
دہشت گردانہ حملہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ہوا۔
پشاور کے پولیس چیف میاں سعید نے کہا، "گیٹ پر تعینات ایف سی کے تین اہلکار شہید ہو گئے اور چار دیگر زخمی ہوئے۔" انہوں نے بتایا کہ ایک حملہ آور نے صوبائی ہیڈکوارٹر کے مین گیٹ پر بارودی مواد ہوا میں اڑاتے ہوئے دھماکہ کیا اور دو دیگر حملہ آور جو کمپاؤنڈ کے اندر پہنچ گئے تھے، سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کے فوری ردِعمل نے مزید جانی نقصان کا سد باب کیا اور صورتحال پر تیزی سے قابو پا لیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی اور سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کو خراجِ تحسین پیش کیا جس نے 'قیمتی جانیں' بچائیں۔
دونوں سربراہان نے اپنے اپنے بیان میں عہد کیا کہ 'ان بزدلانہ حملوں' کے باوجود قوم کی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
کسی گروپ نے فوری طور پر اس حملے کی ذمّہ داری قبول نہیں کی۔
تاہم، ملک میں سابقہ اسی نوعیت کے حملوں کا تحریک طالبانِ پاکستان (ٹی ٹی پی) کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا رہا ہے، جبکہ ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں اضافے کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
ان حملوں نے اسلام آباد اور افغانستان کی طالبان حکومت کے تعلقات پر دباؤ ڈالا ہے، پاکستان کا الزام ہے کہ 2021 میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹی ٹی پی افغانستان کے اندر آزادانہ طور پر کارروائی کر رہی ہے۔ تا ہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔