یورپی کمیشن: ہم، آبنائے ہرمز میں آزادانہ سیروسفر کے لیے کام کریں گے

ہم، اپنے ساجھے داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں آزادانہ سیروسفر کی یقین دہانی  کے لیے کام کریں گے: اُرسُلا وون ڈیر لیین

By
فائل: یورپی کمیشن کی صدر ارزولا وون ڈیر لاین ایک پریس کانفرنس میں۔ / Reuters

یورپی کمیشن کی صدر اُرسُلا وون ڈیر لیین نے آج بروز جمعرات جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ہم، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ  کے دوام کے دوران، اپنے ساجھے داروں کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز میں آزادانہ سیروسفر کی یقین دہانی  کے لیے کام کریں گے۔

وون ڈیر لیین نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ " ہم نے مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔ ایران کے اقدامات عالمی اقتصادی استحکام کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ آزادانہ سیروسفرکو جلد از جلد بحال کیا جا  سکے"۔

وون ڈیر لیین  نےیہ بیان برطانیہ کے وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کے ساتھ یورپی یونین۔برطانیہ سربراہی اجلاس کے بارے میں گفتگو پر مبنی  ٹیلی فونک ملاقات  کے بعد  جاری کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "یہ گذشتہ  سال کے وعدوں کی تکمیل اور ہماری شراکت داری کو مزید مضبوط کرنے کے لئے  ایک اہم موقع ہے"۔

واضح رہے کہ آبنائے  ہرمز، مارچ کے اوائل سے، عملی طور پر  بند ہے۔ ایران نے28 فروری کو شروع ہونے والے  امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں اس بحری درّے کو سیروسفر کے لئے بند کر دیا تھا۔

آبنائے ہُرمز سے یومیہ  تقریباً 20 ملین بیرل تیل گزرتا ہے۔ یہ مقدار تیل کی  عالمی رسد کا تقریباً 20 فیصد ہے۔درّہ  بند ہونے سے تیل کی عالمی قیمتیں بڑھ گئیں، شپنگ متاثر ہوئی  اور طویل المدتی اقتصادی نقصان کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔