جنگی زخمیوں کی رپورٹ کے بوجود ایران کے نئے سپریم لیڈر 'محفوظ اور ٹھیک'ہونے کی اطلاع

ٹرمپ نے پہلے سے ہی خامنہ ای کی تقرری کو ایک 'فاش غلطی' قرار دیا ہے، اور نئے رہنما کو متنبہ کیا ہے کہ 'وہ امریکی منظوری کے بغیر زیادہ دیر تک اپنے عہدے پر قائم نہیں رہ سکتے۔'

By
56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک خاموش طبع شخصیت ہیں جو شاذ و نادر ہی عوامی سطح پر نمودار ہوئے ہیں یا سرکاری تقریبات میں خطاب کیا ہے۔ / Reuters

ایرانی صدر کے فرزند کا کہنا ہے کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے دوران زخمی ہونے کی رپورٹس کے باوجود ' ٹھیک ٹھاک ' ہیں۔

یوسف پیزشکیان نے جو خود حکومت کے مشیر بھی ہیں اپنے ٹیلیگرام چینل پر لکھا ہے کہ 'میں نے سنا کہ جناب مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے ہیں۔ میں نے  ان سے روابط ہونے والے چند دوستوں سے  دریافت کیا تو  انہوں نے کہا کہ شکر ہے، وہ صحتمند و تندرست ہیں۔'

سرکاری ٹیلی وژن نے خامنہ ای کو 'حالیہ جنگ کے زخمی سابق فوجی' قرار دیا تھا، مگر انہوں نے کبھی یہ واضح نہیں کیا کہ ان کو کس طرح چوٹیں آئیں۔

اس سے قبل، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کو شک ہے  کہ ایران کے نئے مقررہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای  امریکہ کے ساتھ امن سے رہ سکیں گے اور انہوں نے جاری تنازع کے دوران تہران کی قیادت پر اپنی تنقید میں شدت لائی تھی۔

فاکس نیوز پر نشر ہونے والے  ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ 'میں نہیں سمجھتا کہ وہ سکون سے رہ سکیں گے ' اور مزید کہا کہ وہ ایران کے فیصلے سے 'خوش' نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے پہلے بھی خامنہ ای کی تقرری کو 'بڑی غلطی' قرار دیا تھا اور خبردار کیا تھا کہ نیا رہنما 'بغیر امریکی منظوری کے زیادہ دیر تک اپنے عہدے پر قائم نہیں  رہ سکے گا۔