ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترک صدر کی طرف سے ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے جواب کا خیر مقدم
"اب جو کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل فوری طور پر اپنے حملے بند کرے اور جنگ بندی منصوبے کی پاسداری کرے۔"
ترک صدر  کی طرف سے ٹرمپ کی تجویز پر حماس کے جواب کا خیر مقدم
Erdogan calls Hamas' decision as "a significant step toward lasting peace" and demands Israel immediately ends its attacks. / AA

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے پر حماس کے ردعمل کو "تعمیری اور پائیدار امن کے حصول کی جانب ایک اہم قدم" قرار دیا ہے اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں نسل کشی کو ختم کرے۔

ایردوان نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا، "اب جو کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اسرائیل فوری طور پر اپنے حملے بند کرے اور جنگ بندی منصوبے کی پاسداری کرے۔" یہ بیان اس وقت دیا گیا جب حماس نے تمام قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور ٹرمپ نے اسرائیل کو غزہ پر بمباری روکنے کا حکم دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے اور "اس نسل کشی، اس شرمناک صورتحال کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے، جس نے عالمی ضمیر کو گہرائی سے مجروح کیا ہے۔"

ایردوان نے کہا کہ ترکیہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا تاکہ مذاکرات "فلسطینی عوام کے لیے بہترین طریقے سے" مکمل ہوں اور بین الاقوامی برادری کے حمایت یافتہ دو ریاستی حل کے نفاذ میں مدد فراہم کی جا سکے۔

ایک دوسرے بیان میں  ترک  وزارت خارجہ نے کہا کہ حماس کا ردعمل "غزہ میں فوری جنگ بندی کے قیام، علاقے میں انسانی امداد کی بلا تعطل فراہمی، اور پائیدار امن کے حصول کے لیے ضروری اقدامات کو ممکن بنائے گا۔"

وزارت نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات شروع کریں اور اس بات پر زور دیا کہ "اسرائیل کو فوری طور پر غزہ کے عوام پر اپنے حملے بند کرنے چاہئیں۔" وزارت نے عہد کیا کہ انقرہ مذاکرات کی حمایت جاری رکھے گا اور "تعمیری کردار ادا کرے گا۔"

حماس کا ردعمل

ترک حکام کے بیانات اس وقت سامنے آئے جب حماس نے ٹرمپ کی تجویز پر اپنا باضابطہ جواب دیا، جس میں تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے، جاں بحق افراد کی لاشیں حوالے کرنے، اور غزہ کی انتظامیہ کو ایک آزاد فلسطینی تکنیکی حکومت کے سپرد کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔

ٹرمپ نے حماس کو اتوار کے روز واشنگٹن وقت کے مطابق شام 6 بجے تک اپنی تجویز کی باضابطہ منظوری دینے کی مہلت دی تھی، جس میں غزہ کو ہتھیاروں سے پاک زون میں تبدیل کرنے اور ایک عبوری حکومتی نظام کے تحت لانے کی تجویز دی گئی تھی، جس کی نگرانی امریکی صدر کی قیادت میں ایک بین الاقوامی ادارہ کرے گا۔

منصوبے میں 72 گھنٹوں کے اندر قیدیوں کا تبادلہ، دشمنیوں کا خاتمہ، غزہ میں مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا، اور اسرائیلی فوجیوں کی بتدریج واپسی شامل ہے۔

 

دریافت کیجیے
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک
بیجنگ نے موسلادھار بارشوں کے باعث بس سروسز معطل کر دیں، سیاحتی علاقوں کو بند کر دیا
"عالمی ریڈ کراس کا تعاون " غزہ میں تباہ حال عمارتوں سے لاشیں نکالنے کا آغاز
ایران: دشمن ممالک کے جہازوں کو اجازت لینا پڑے گی
بحرین نے پاکستان کو ترکیہ، سعودی عرب کے ساتھ سہ فریقی  دفاعی معاہدے پر مبارکباد دی
ایرانی وزیر خارجہ: "ہم  نے جنگ اور سیاست دونوں میں فتح حاصل کی ہے۔"
غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے: اقوام متحدہ
روس اور یوکرین کے دو طرفہ حملوں میں 7 افراد ہلاک، علاقے میں حملوں میں شدت آئی ہے
اسرائیل نے تقریباً 650 مکانات پر مشتمل ایک اور غیر قانونی آبادکاری منصوبے پر کام شروع دیا
روس کا کیف پر حملہ،5 افراد ہلاک،متعدد زخمی
عراق نے  60 لاکھ اسلحے کے اندراج کے لیے ڈیٹا بیس تیار کرلیا
"ڈرون میزائل دھماکہ " مولدووا نے روس سے اپنا سفیر واپس بلالیا
فلپائن میں بارشوں اور لرزشِ اراضی سے 12 افراد ہلاک، 8 لاپتہ