اسرائیل نے تہران پر نئے حملے شروع کر دیے جبکہ ایران نے خلیج کے مقامات پر نشانہ بنایا
ایران نے ان حملوں کا جواب اسرائیل، خلیجی توانائی مقامات اور حتیٰ کہ امریکی سفارتی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں سے دیا ہے۔
اسرائیل نے پیر کو ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس سے تہران کی طرف سے نئی دھمکیاں سامنے آئی ہیں جس سے یہ تنازع شدت اختیار کر گیا ہے جس نے اب دہائیوں کا بدترین عالمی توانائی بحران کھڑا کیا ہے۔
تہران میں دھماکوں کی اطلاعات ہیں، جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے کہا کہ انہوں نے علاقے میں آنے والے میزائل اور ڈراونز کو روک لیا ہے۔
عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق، تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے مراکز “شدید یا انتہائی شدید طور پر نقصان زدہ” ہو چکے ہیں۔
ایران نے ان حملوں کا جواب اسرائیل، خلیجی توانائی مقامات اور حتیٰ کہ امریکی سفارتی مراکز کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں سے دیا، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کے راستے پرآمدورفت روک کر صورتِ حال کو مشکل بنا دیا ہے۔یہ راستہ عالمی تیل رسد کے تقریباً ایک بٹا پانچ کو سر انجام دیتا ہے۔
پیٹرول بحران اور بڑھتے ہوئے خطرات
تیل کی قیمتیں فی بیرل 100 س ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سخت انتباہ جاری کیا اور ایران کو 48 گھنٹوں کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا کہتے ہوئے اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دینے کی دھمکی دی ہے۔
تہران نے اس کا والہانہ جواب دیا ہے ۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو پورے خطے کے اہم بنیادی ڈھانچے “جائز اہداف” بن جائیں گے۔
بیرول نے کہا کہ بحران پہلے ہی یومیہ تقریباً 11 ملین بیرل تیل کی کمی کو جنم دے چکا ہے ۔جو 1970 کی دہائی کے پیٹرول بحران کے دوران ہونے والے نقصانات سے بھی زیادہ ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ "کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا" اور بحران کو محدود کرنے کے لیے فوری عالمی ہم آہنگی کا مطالبہ کیا۔