غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
غزّہ بھر پر اسرائیلی حملے اب جنگ بندی کی انفرادی خلاف ورزیاں نہیں ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کے مترادف ہیں: حماس
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل پر ’مسلسل جنگ‘ جاری رکھنے کا الزام لگایا / TRT World

فلسطین تحریکِ مزاحمت 'حماس' نے کہا ہے کہ غزہ بھر میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت اصل میں مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ غزّہ بھر پر اسرائیلی حملے، اب جنگ بندی کی انفرادی خلاف ورزیاں نہیں ،  ’’مختلف شکلوں میں جاری جنگ‘‘ کے مترادف ہیں۔

حماس نے ایک سرکاری بیان میں کہا ہے کہ ’’جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کی غزہ میں منظم فسطائی جارحیت   کواب بکھری ہوئی خلاف ورزیوں کا سلسلہ نہیں  کہا جا سکتا۔ یہ خلاف ورزیاں مختلف شکلوں میں جاری جنگ   ہےاور جنگ بندی معاہدے سے انکار ہے۔‘‘

حماس کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح  حملے تیز کر دیئے اور ان حملوں میں  کم از کم پانچ فلسطینیوں کو قتل اور متعدد کو زخمی کر دیا ہے۔

گروپ نے کہا ہے کہ کشیدگی میں اضافے میں غزہ کے جنوبی علاقوں میں گھروں کی مسماری، غزہ شہر کے ساحل کے قریب ماہی گیروں کو نشانہ بنا کر کی گئی فائرنگ اور پورے علاقے میں شہریوں پر براہِ راست حملے شامل ہیں۔

بین الاقوامی اور ثالثی کی مداخلت کا مطالبہ

حماس نے اپنے بیان میں ایک بار پھر علاقائی اور بین الاقوامی ثالثوں سے مداخلت کرنے اور اسرائیلی حکام کو جواب دہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’تحریک نے جنگ بندی معاہدے کے ثالثوں اور ضامنوں سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی  عوام کے خلاف ان صہیونی جرائم کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، فوری کارروائی کریں ، فلسطینی عوام کے خلاف جارحیت رکوانے کے لئے  قابض حکومت پر دباؤ ڈالیں اور اس حکومت کو بین الاقوامی ضمانت کے تحت طے پانے والے معاہدے کی پابندی کرنے پر مجبور کریں۔‘‘

یہ حملے امریکہ کےصدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کئے گئے ہیں کہ جس میں انہوں نےاسرائیل سے علاقے پر بمباری بند کرنے کا مطالبہ کیا اور  کہا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں حملے نہیں کرنے چاہئیں ۔

واضح رہے کہ 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی معاہدے کے نفاذ  کے بعد سے جاری خلاف ورزیوں میں اسرائیل  1,320 فلسطینیوں کو قتل اور  4,385 کوزخمی کر چکا ہے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے تلے سے بھی  سینکڑوں لاشیں نکالی ہیں۔

غزہ وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل،  اکتوبر 2023 سے غزہ میں جاری اپنی نسل کشی کے دوران زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل  کم از کم 73,454 فلسطینیوں کو قتل  اور 174,486 افراد کو  زخمی  کر چُکا ہے۔

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی