سیاست
3 منٹ پڑھنے
ہم گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو سے بات چیت کر رہے ہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ قومی سلامتی کے لیے حیاتی اہمیت رکھتا ہے اور واشنگٹن اس معاملے پرمیثاق کے ساتھ فعال طریقے سے بات چیت کر رہا ہے۔
ہم گرین لینڈ کے معاملے پر نیٹو سے بات چیت کر رہے ہیں، ٹرمپ
ٹرمپ نے گرین لینڈ کی اسٹریٹجک اہمیت پر دوبارہ دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اتحادی مذاکرات جاری ہیں۔ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ، گرین لینڈ کے بارے میں نیٹو کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ انہوں نے اس آرکٹک علاقے کو امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔

ٹرمپ نے جمعہ کو رپورٹرز  کو بتایا کہ"نیٹو ،ہمارے ساتھ گرین لینڈ کے معاملے پر بات کر رہا ہے۔ ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی اشد ضرورت ہے۔"

خاص طور پر جب بات آتی ہے اس گولڈن ڈوم اور دیگر امور کے بارے میں جن پر ہم کام کر رہے ہیں،"اگر ہمارے پاس یہ نہیں ہوگا تو قومی سلامتی میں بڑا خلاء پیدا ہو جائے گا۔"

ٹرمپ نے جن فوجی یا سکیورٹی اقدامات کا حوالہ دیا اُن کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، مگر کہا کہ واشنگٹن اس معاملے پرمیثاق کے ساتھ فعال طریقے سے بات چیت کر رہا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کو ٹرمپ نے کہا کہ وہ گرین لینڈ سے متعلق امریکی مفادات کی مخالفت کرنے والے ممالک کے خلاف بطور دباؤ محصولات کے معاملے کو  استعمال کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

انہوں نےاس بات کا حوالہ دیتے ہوئے کہ" ایک سابقہ تبادلہ خیال میں انہوں نے فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون کے ساتھ ایسی بات کی تھی جس میں انہوں نے فرانس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے لیے وسیع پیمانے پر 25 فیصد ٹیرف کی دھمکی کا ذکر کیا تھا"، میں یہ گرین لینڈ کے لیے بھی کر سکتا ہوں۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب سے کہا"میں ، گرین لینڈ کے معاملے میں ہمارے ساتھ تعاون نہ کر نے والےممالک پر ٹیرف لگا سکتا ہوں ، کیونکہ ہمیں قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ کی ضرورت ہے۔"

ٹیرف… ممکنہ تادیبی اقدامات

گزشتہ ہفتے، ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو گرین لینڈ "اپنے زیر کنٹرول لینا" چاہیے تاکہ ڈنمارک کا حصہ ہونے والے اس خود مختار علاقے پرروس یا چین کو  اثر و رسوخ حاصل نہ ہو۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں نے اس علاقے کی فروخت کی کسی بھی تجویز کو رد کر دیا ہے اور جزیرے پر ڈنمارک کی حاکمیت کی توثیق کی ہے۔

ڈنمارک کے اعلی حکام نے بدھ کو وائٹ ہاؤس میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اس مسئلے پر ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد ڈنمارک کے وزیر خارجہ لارز لوکے راسموسن نے کہا کہ بات چیت "واضح  اور  مثبت" تھی مگر تسلیم کیا کہ “بنیادی اختلافات” باقی ہیں۔

کوپن ہیگن میں دو جماعتی قانون سازوں کا ایک گروپ جمع  ہے تاکہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے لوگوں کے ان خدشات پر بات چیت کرے جو ٹرمپ انتظامیہ کی حصول کی دھمکیوں کے بارے میں ہیں۔

 

دریافت کیجیے
ایستونیا: بھارتی کمپنی سے دھوکہ کھانے کے بعد وزیرِ دفاع نے استعفیٰ دے دیا
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں