اقوام متحدہ کی طرف سے مذّمت: امن فورس کی سلامتی کو ملحوظ رکھا جائے
تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور اقوام متحدہ کے عملے اور املاک کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنائیں: گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کل بروز اتوار رات دیر گئے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران لبنان میں اقوام متحدہ کی عارضی امن فورس (UNIFIL) کے ایک انڈونیشی اہلکار کی ہلاکت کی شدید مذّمت کی ہے۔
سوشل میڈیا ایکس سے جاری کردہ بیان میں گوتریس نے کہا ہے کہ "یہ واقعہ امن دستوں کی حفاظت و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے حالیہ واقعات میں سے ایک ہے "۔
گوتریس نے تمام فریقین سے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور اقوام متحدہ کے عملے اور املاک کی حفاظت و سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
یونیفل نےجاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ اتوار کو جنوبی لبنانی گاوں عدشیت القصیر کے قریب یونیفل کی ایک چوکی پر کسی میزائل کے پھٹنے سے امن دستے کا ایک اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا ہے۔
یونیفل نے میزائل کے ماخذ سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا تھا کہ "ہم نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں"۔
انڈونیشیا وزارتِ خارجہ نے بھی جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ عدشیت القصیر کے قریب "بالواسطہ توپ خانہ فائرنگ " کے نتیجے میں انڈونیشیا امن دستے کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں۔
وزارت نے کہا تھا کہ "ہماری دعائیں سوگوار خاندان کے ساتھ ہیں اور ہم زخمی عملے کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں۔انڈونیشیا، یونیفل کے ساتھ مل کر جاں بحق فوجی کی میّت کی جلد وطن واپسی اور زخمیوں کے بہترین علاج کو یقینی بنا رہا ہے"۔
انڈونیشیا نے اس واقعے کی سخت مذّمت کی، تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا ہےکہ اقوام متحدہ امن دستوں کی حفاظت اور سلامتی کا احترام "ہر وقت" کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ عدشیت القصیر لبنان کی جنوبی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں اسرائیلی فورسز تقریباً ایک ماہ سے حزب اللہ کے جنگجوؤں سے لڑ رہی ہیں۔
7 مارچ کو جنوبی لبنان کے ایک سرحدی قصبے میں فائرنگ سے گھانا کے تین فوجی زخمی ہوگئے تھے۔