غّزہ جنگ
3 منٹ پڑھنے
حملوں نے اسرائیلی دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے: حماس
عالمی برادری، عرب اور اسلامی ممالک، فلسطینیوں کے تحفظ، امداد کی فراہمی اور غزہ میں دو سالہ "نسل کشی" اور بھوک کے خاتمے کے لیے، اپنی قانونی و انسانی ذمہ داریاں پوری کریں: حماس
حملوں  نے اسرائیلی دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے: حماس
A statement from the Gaza Media Office said the Israeli army carried out 93 air strikes, killing 70 people, including 47 in Gaza City. / AA

فلسطین تحریک مزاحمت 'حماس' نے کہا ہے کہ شہریوں کے خلاف جارحیت میں کمی کے دعوے کے باوجود  اسرائیل نے محصور غزہ میں فضائی حملے کر کے، عورتوں اور بچوں سمیت، مزید 70 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے ۔

حماس نے ہفتے کے روزجاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ"مستقل جاری یہ خونریز شدت پسندی جنگی مجرم نیتن یاہو کی حکومت کے، نہتے شہریوں کے خلاف فوجی کارروائیاں کم کرنے کے، دعووں کو بے نقاب کرتی ہے "۔

حماس نے عالمی برادری اور عرب اور اسلامی ممالک سے اپیل کی  ہےکہ وہ فلسطینیوں کے تحفظ، امداد کی فراہمی اور غزہ میں دو سالہ "نسل کشی" اور بھوک کے خاتمے کے لیے دباؤ میں اضافے کے لئے  اپنی قانونی و انسانی ذمہ داریاں پوری کریں۔

غزہ میڈیا آفس کے ایک بیان کے مطابق اسرائیلی فوج نے 93 فضائی حملے کیے جن میں 70 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان میں سے 47 کو صرف غزہ شہر میں قتل کیا گیا ہے۔

یہ حملے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جمعہ کے روز اسرائیل سے "فوری طور غزہ پر بمباری بند کرنے"کا ،مطالبہ کرنے کے بعد کئے گئے ہیں۔ حماس کے، جنگ بندی منصوبے کے تحت، اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد  ٹرمپ نے کہا تھا  کہ انہیں یقین ہے کہ یہ تحریک "پائیدار امن کے لیے تیار ہے۔"

مصر نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا  کہ وہ پیر کو اسرائیل اور حماس کے وفود کی میزبانی کرے گا تاکہ ٹرمپ  منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے قیدیوں کے تبادلے کی تفصیلات پر بات چیت کی جا سکے۔

ٹرمپ نے 29 ستمبر کو اپنے 20 نکاتی منصوبے کا اعلان کیا جس میں اسرائیل کی منظوری کے 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی قیدیوں کی رہائی، جنگ بندی اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی تجاویز شامل تھیں۔

اسرائیل کی طرف سے جاری نسل کشی

تل ابیب کے  اندازے کے مطابق غزہ میں 48 اسرائیلی قیدی موجود ہیں جن میں سے 20 زندہ ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی اور اسرائیلی حقوقِ انسانی  گروپوں کے مطابق اسرائیل تقریباً 11,100 فلسطینی قیدیوں کو حراست میں رکھے ہوئے ہے جن میں سے اکثر کو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا سامنا ہے۔

اسرائیل اب تک محصور غزہ میں، زیادہ تر عورتوں اور بچوں پر مشتمل ، 67,000 سے زائد فلسطینیوں کو  قتل کر چُکا ہے ۔

اسرائیل  نے ماحولیاتی قتل عام کر کے علاقے کے بیشتر حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا  اور عملی طور پر اس کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔

دریافت کیجیے
غزہ میں ایک مسجد کو نشانہ بنا کر شہید کرنے کا اسرائیل کا اعتراف
یورپی یونین کا نیتن یاہو کے خلاف آئی سی سی وارنٹ کے نفاذ کا مطالبہ
اسرائیلی تازہ حملوں میں غزہ میں مزید تین فلسطینی شہید
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
اسرائیلی فوج نے تین فلسطینیوں کو قتل کر کے لاشیں قبضے میں لے لیں
پیس بورڈ نے غزہ میں انسانی امداد کے مراکز کا انتظام کرنے کے لیے پائلٹ پروجیکٹ شروع کر دیا
اسرائیل نے دہشت گردی کا الزام لگا کر ایک خیراتی تنظیم کو بند کر دیا
اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ میں 8 فلسطینی ہلاک، درجنوں زخمی
اسرائیل عالمی رد عمل کے باعث غزہ سے جبری نقل مکانی کے منصوبے کو نئے سرے سے تشکیل دے رہا ہے
اسرائیل نے 6 لبنانیوں کو ہلاک کر دیا
اسرائیلی فوج نے دو فلسطینیوں کو قتل کر دیا
لبنان کے متعدد علاقوں پر اسرائیلی حملے، 7 افراد ہلاک
غزہ میں تازہ اسرائیلی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک
اسرائیلی حکام کو خدشہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ تنازع سے ہتھیاروں پر پابندی لگ سکتی ہے — رپورٹ
اسرائیل کی فوجی حکمت عملی علاقے میں نفرت اور تشدد کو مزید ہوا دیتی ہے: میکرون
اسرائیل نے غزہ میں ایک فلسطینی بچے کو اس کے والد کی گود میں قتل کر دیا
قابض اسرائیلیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں مسجد پر حملہ اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا
غزہ پر اسرائیلی حملے جاری،مزید 3 فلسطینی ہلاک
سروے کے مطابق نتن یاہو کی لیکود پارٹی کی حمایت ایک سال کی کم ترین سطح پر
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ: "مجھے رہا کیا جائے"