ایران: ٹرمپ جنگ شروع کر سکتے ہیں اسے قابو میں نہیں رکھ سکتے
تہران مذاکرات کے لئے حاضر ہے لیکن"صرف اسی صورت میں کہ جب مذاکرات حقیقی ہوں اور انہیں زبردستی مسلط نہ کیا جائے: محمد باقر قالیباف
ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ" جنگ شروع کر سکتے ہیں لیکن اس کے انجام کو قابو میں نہیں رکھ سکتے"۔
ایران پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکہ جنگ شروع کر سکتا ہے لیکن اس کے انجام کو قابو میں نہیں رکھ سکتا۔ تہران مذاکرات کے لئے حاضر ہے لیکن"صرف اسی صورت میں کہ جب مذاکرات حقیقی ہوں اور انہیں زبردستی مسلط نہ کیا جائے"۔
محمد باقر قالیباف نے بروز بدھ رات دیر گئے CNN کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ، "ہم مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن ہمیں نہیں یقین کہ یہ اُسی نوعیت کے مذاکرات ہوں گے جن کے ٹرمپ متلاشی ہیں"۔
قالیباف نے واشنگٹن کو بزورِ بازو سفارت کاری کی بیخ کُنی کا قصوروار ٹھہرایا اور کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ متوقع چھٹے مذاکراتی دور سے دو روز قبل امریکہ نے مذاکراتی میز پر بمباری کی ہے"۔
انہوں نے کہا کہ ایران، ٹھوس فوائدسے محروم مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔جب تک ایرانی عوام کے اقتصادی مفادات کی ضمانت نہیں دی جاتی، مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ہم دھونس کو مذاکرات تصور نہیں کرتے"۔
مذاکراتی میز پر آؤ
قالیباف نے کہا ہے کہ فوجی دباؤ میں ہونے والی بات چیت صرف کشیدگی میں اضافہ کرے گی۔ اگر ٹرمپ نوبل امن انعام چاہتے ہیں تو انہیں اپنےاطراف میں موجود جنگ پسندوں اور ہتھیار ڈالنے کے حامیوں سے فاصلے اختیار کرنا چاہیے"۔
قالبیاف کا یہ بیان ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد جاری کیا ہے۔ بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایک "بڑا فوجی بیڑہ" ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور انہوں نے تہران سے مذاکرات کے لیے"میز پر آنے" کی اپیل کی ہے۔