جنوبی کوریا: سابقہ خاتونِ اوّل پر رشوت خوری اور ریاستی امور میں مداخلت کا الزام
سابقہ خاتونِ اوّل نے فنونِ لطیفہ کے فن پارے، زیورات اور ایک ہینڈ بیگ سمیت200,000ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف بطور رشوت قبول کئے اور ریاستی معاملات میں مداخلت کی ہے: یونہاپ
جنوبی کوریا کے وکلاءنے چھ ماہ کی عدالتی کاروائی کے بعد ملک کی سابقہ خاتونِ اوّل 'کِم کیون۔ہی'کو ریاستی معاملات میں غیر قانونی مداخلت" اور بدعنوانی کا قصوروار ٹھہرایا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کی آج بروز سوموار جاری کردہ خبروں کے مطابق پراسیکیوٹروں نے دعوی کیا ہے کہ جنوبی کوریا کی سابقہ خاتونِ اوّل نے فنونِ لطیفہ کے فن پارے، زیورات اور ایک ہینڈ بیگ سمیت200,000ڈالر سے زائد مالیت کے تحائف بطور رشوت قبول کئےاور ریاستی معاملات میں مداخلت کی ہے۔
یونہاپ خبر ایجنسی کے مطابق خصوصی اٹارنی 'مِن جونگ۔کی' کی ٹیم نے کہا ہے کہ کِم پسِ پردہ کام کرتی رہیں ۔ٹیم کے معاون اٹارنی نے کہا ہے کہ سابق صدر کی شریک حیات عہدوں کی فروخت میں ملوث رہیں اور عوام کی نظروں سے اوجھل رہ کر ریاستی معاملات میں غیرقانونی مداخلت کرتی رہی ہیں ۔
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کِم پر، تاجروں اور سیاسی شخصیات سے عہدوں اور سیاسی نامزدگیوں کے بدلے میں، قیمتی تحائف قبول کرنے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔
پراسیکیوٹروں کا کہنا ہے کہ کِم کی طرف سے کاروباری افراد اور سیاستدانوں سے وصول کی گئی رشوت کی مجموعی مقدارتقریباً 263,000 ڈالر تک ہے۔
واضح رہے کہ سابق صدر یون سک۔ییول اور ان کی اہلیہ کِم کیون۔ہی دونوں زیرِ حراست ہیں اور بالترتیب مارشل لا اور بدعنوانی کے الزامات پر الگ الگ مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔