انڈونیشیا میں بارشوں سے ہزاروں افراد ہلاک، مزید خسارے کا خدشہ

شدید بارشوں نے شمالی سوماترا، مغربی سوماترا اور آچے صوبوں کے وسیع علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جس کے نتیجے میں زمین کھسکنے سے گھر زمین بوس ہو گئے۔

By
شدید بارشوں نے انڈونیشیا کے شمالی سماٹرا، مغربی سماٹرا اور آچے صوبوں کے وسیع علاقوں کو سیلاب زدہ کر دیا۔ / AA

حکام نے ہفتے کو بتایا  ہے کہ شدید سیلابوں اور لرزش اراضی سے  انڈونیشیا میں کم از کم 1,003 افراد کو ہلاک ہو گئے جب کہ امدادی ٹیمیں سنگین متاثرہ جزیرے صوماترا میں بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یہ آفت، جو گزشتہ دو ہفتوں کے دوران وقوع پذیر ہوئی، کے نتیجے میں 5,400 سے زائد افراد زخمی اور 218 افراد لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، قومی آفتی تدارک ایجنسی کے مطابق۔

حکام نے خبردار کیا ہے کہ جب دور دراز اور پہلے سے کٹے ہوئے علاقوں تک رسائی بہتر ہوگی تو ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

شدید بارشوں نے شمالی سوماترا، مغربی سوماترا اور آچے صوبوں کے وسیع علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جن کے نتیجے میں زمین کھسکنے سے گھر زمین بوس ہو گئے  اور سڑکیں، پل اور کھیت بہہ گئے۔ 1.2 ملین سے زائد رہائشی عارضی پناہ گاہوں میں منتقل ہونے پر مجبور ہوئے، جن میں کئی جگہیں گنجان ہیں اور بنیادی ضروریات کی قلت پائی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں سب سے مہلک

یہ سیلاب صوماترا میں حالیہ برسوں میں آنے والی سب سے مہلک آفات میں شمار ہوتا ہے اور یہ  2004 کے  بحر ہند سونامی کی یاد تازہ کرتے ہیں جس نے آچے صوبے کو بری طرح متاثر کیا تھا اور صرف انڈونیشیا میں 170,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ریسکیو آپریشنز کو متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی خرابی اور مسلسل بارشوں نے پیچیدہ بنا دیا ہے، جس سے امدادی سامان کی ترسیل سست ہو گئی ہے۔ بے گھر خاندانوں میں ناخوشگواری پائی جا رہی ہے اور بعض نے رلیف میں تاخیر، صاف پانی، ادویات اور خوراک کی کمی کی شکایات کی ہیں۔

صدر پربوو سبیانتو نے عوام کو تسلی دینے کی کوشش کی، اور کہا کہ حالات بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ شمالی صوماترا کے سیلاب متاثرہ ضلع لنگکاٹ کا دورہ کرنے کے بعد انہوں نے کہا کہ کئی ایسے علاقے جو الگ تھلگ تھے اب قابلِ رسائی ہیں۔

پربوو نے کہا"یہاں وہاں، قدرتی اور جغرافیائی حالات کی وجہ سے، معمولی تاخیر ہوئی ہے"لیکن میں نے تمام انخلا مرکزوں کا معائنہ کیا: ان کی حالت اچھی ہے، خدمات مناسب ہیں اور خوراک کے ذخائر کافی ہیں۔"

اخراجات میں اضافہ

حکومت کے اندازے کے مطابق گھروں، سڑکوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کی مرمت پر آنے والا خرچ تقریباً 3.1 بلین ڈالرتک پہنچ سکتا ہے۔

تباہی کے حجم کے باوجود، جکارتہ نے ابھی تک بین الاقوامی امداد طلب کرنے کی درخواستوں کو پسِ پشت ڈالا ہے اور کہا ہے کہ ملکی وسائل بحران سے نمٹنے کے لیے متحرک کیے جا رہے ہیں۔

انڈونیشیا موسمی لحاظ سے، پہاڑی زمین اور بعض علاقوں میں جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے سیلابوں اور لینڈسلائیڈز کے لیے بہت زیادہ متاثر پذیر ہے۔

ماحولیاتی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انتہائی موسمی واقعات زیادہ تکرار اور شدت اختیار کر رہے ہیں، جو جزیرہ نما پر بڑی آفات کے خطرے کو بڑھا رہے ہیں۔

جبکہ تلاش و ریسکیو ٹیمیں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ ترجیح لاپتہ افراد کو تلاش کرنا اور مزید جانی نقصان کا سد باب کرنا  ہے۔