بوسنیا کے 'قصاب' کو فالج کا دورہ
بوسنیائی سرب جنگی مجرم راٹکو ملادچ کو فالج کا دورہ پڑا اور اس کی صحت کی حالت بگڑ گئی ہے
دی ہیگ میں عمر قید کاٹنے والے بوسنیائی سرب جنگی مجرم راٹکو ملادچ کو فالج کا ہلکا سا دورہ پڑا ہے اور اس کی صحت کی حالت بگڑ گئی ہے۔
ملادچ کے بیٹے ڈارکو ملادچ نے بوسنیائی سرب سرکاری ٹیلی ویژن کے لئے انٹرویو میں کہا ہے کہ جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے ایک ڈاکٹر نے انہیں ان کے والد کی صحت کے حوالے سے ابتدائی معلومات فراہم کی ہیں۔
ڈارکو ملادچ نے کہا ہے کہ"ڈاکٹر کے خیال میں یہ ایک ہلکا سا فالج تھا۔اس کے بعد میرے والد کو ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے"۔
ڈارکو کے مطابق ان کے والد کی حالت روز بروز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہا ہے کہ "ہم ابھی تک دی ہیگ سے طبی دستاویزات کے منتظر ہیں تاکہ سربیا کے ڈاکٹر ان کا معائنہ کر سکیں۔"
انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے 81 سالہ والد کو علاج کے لیے سربیا جانے کی اجازت دی جائے گی۔
"بوسنیا کا قصائی"
ملادچ 16 سال تک مفرور رہنے کے بعد 2011 میں سربیا سے گرفتار ہو گیا تھا۔ 1990 کی دہائی میں جنگ بوسنیا کے دوران مسلمان بوسنیائی باشندوں کے خلاف نسل کشی اور جنگی جرائم کے ارتکاب پر، 2017 میں سابق یوگوسلاویہ کے لیے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل نے ملادچ عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
"بوسنیا کے قصاب" کے لقب سے مشہور اس سابق کمانڈر کو خاص طور پر سرائیوو کے محاصرے اور 1995 میں سربرینیتسا قتلِ عام میں اس کے کردار پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس قتل عام میں 8,000 سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کو قتل کر دیا گیا تھا۔ انصاف کے بین الاقوامی اداروں نے اس واقعے کو نسل کشی تسلیم کیا ہے۔
دی ہیگ کے حکام کی جانب سے ملادچ کی صحت کے بارے میں تاحال کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔
ملادچ کے وکلاء طویل عرصے سے اس کے علیل اور کمزور ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں اور ان دعووں کی بنیاد پر انہوں نے پہلی بار 2017 میں طبی بنیادوں پر عارضی رہائی کی درخواست کی تھی۔ تاہم، جولائی 2025 میں دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالتوں کے بقیہ میکانزم 'IRMCT' نے صحت کی بنیاد پر "بوسنیا کے قصائی" کی رہائی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔