ٹرمپ: امریکہ 2-3 ہفتوں میں ایران کو ترک کر دے گا

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ "مجھے بس ایران چھوڑنا ہے، اور ہم یہ بہت جلد کریں گے۔"

By
ٹرمپ کا اشارہ ہے کہ ایران میں آپریشنز اختتام پذیر ہونے والے ہیں۔ / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی افواج ایران کو "دو سے تین ہفتوں"  تک ترک کر دیں گی،  اس بیان سے جاری حملوں کے خاتمے کا اشارہ ملا ہے۔

ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے کہا کہ "مجھے بس ایران چھوڑنا ہے، اور ہم یہ بہت جلد کریں گے۔"

انہوں نے کہا کہ "ہم بہت جلد وہاں سے روانہ ہو جائیں گے، اسے  "شاید دو تا تین  ہفتے"  لگیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا جسے  پہلے ہی حاصل کر لیا گیا ہے۔ان کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوگا،  یہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔"

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکی فضائی حملوں نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے، اور دعویٰ کیا کہ تہران کو دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا ہونے میں"15 تا 20 سال" درکار ہوں گے۔

انہوں نے کہا"ہم بہت جلد روانہ ہو جائیں گے، اور اگر فرانس یا کسی اور ملک کو تیل یا گیس لینی ہو تو وہ آبنائے ہرمز کے  ذریعے جائیں گے۔"

"وہ اپنے لیے خود کفیل ہو سکیں گے۔ میرا خیال ہے یہ درحقیقت بہت محفوظ ہوگا، مگر ہمارا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہوگا۔"

امریکہ اور اسرائیل 28 فروری سے ایران پر فضائی حملے کر رہے ہیں، جن میں ایرانی حکام کے مطابق 1,340 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایران نے ڈراون اور میزائل حملوں سے جواب دیا ہے جن کے ہدف اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن، عراق اور خلیجی ممالک رہے ہیں جہاں امریکی فوجی اثاثے موجود ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے شروع ہونے کے بعد کم از کم 13 امریکی فوجی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس تصادم نے توانائی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں اور عالمی تیل کی ایک اہم راہداری آبنائے  ہرمز  میں  جہاز رانی  کو متاثر کیا ہے، جہاں  سے بڑی مقدار میں تجارتی مال بردار بحری جہاز گزرتے ہیں۔