چین کا مستقل غزہ جنگ بندی کا مطالبہ، مزید تشدد کی صورت میں مضبوط بین الاقوامی کارروائی کی اپیل
جنگ کے بعد غزہ میں حکومت چلانے اور تعمیرِ نو کا عمل ‘فلسطینیوں کی فلسطین پر حکومت’ کے اصول کے تحت ہونا چاہیے، فلسطینی عوام کے ارادے کا مکمل احترام کیا جائے اور خطّے کے ممالک کے جائز خدشات کا مناسب خیال رکھا جائے۔
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے غزہ میں فوری اور دیرپا جنگ بندی کا مطالبہ کیا اور بین الاقوامی برادری سے کہا کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے لیے کوششیں تیز کرے۔
شن ہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق ،فلسطینی عوام کے ساتھ بین الاقوامی یکجہتی کے دن کی مناسبت سے منعقدہ اقوام متحدہ کے خصوصی اجلاس کو اپنا تہنیتی پیغام بھیجنے والے شی نے کہا کہ مسئلہ فلسطین مشرقِ وسطیٰ کے تنازعہ کا مرکز ہے، جو بین الاقوامی مساوات، انصاف اور علاقائی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ "اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے دائمی رکن کے طور پر چین فلسطینی عوام کے اپنے جائز قومی حقوق کی بحالی کے منصفانہ مقاصد کی بھر پور حمایت کرتا ہے۔"
شی نے زور دیا کہ غزہ میں بحران کے تدارک کے لیے بین الاقوامی برادری کو مزید فعال اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ مزید کشیدگی روکی جا سکے اور تشدد کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکا جا سکے۔
فلسطین پر فلسطینیوں کو حکومت کرنی چاہیے
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد غزہ میں حکومت چلانے اور تعمیرِ نو کا عمل ‘فلسطینیوں کی فلسطین پر حکومت’ کے اصول کے تحت ہونا چاہیے، فلسطینی عوام کے ارادے کا مکمل احترام کیا جائے اور خطّے کے ممالک کے جائز خدشات کا مناسب خیال رکھا جائے۔
طویل المدتی حل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے، شی نے دو ریاستی حل کو جامع اور پائیدار امن کے حصول کا بنیادی راستہ قرار دیا۔
انہوں نے غزہ میں انسانی صورتِ حال کو جلد از جلد بہتر بنانے اور فلسطینی عوام کی تکالیف کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ فلسطینی مسئلہ عالمی نظام کی کارکردگی کا بھی امتحان ہے۔
شی نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ فلسطین کی بنیادی وجوہات کا غور کریں، ذمہ داریاں اٹھائیں، موثر اقدامات کریں، تاریخی ناانصافیوں کی اصلاح کریں اور انصاف و مساوات کے اصولوں کو برقرار رکھیں۔