وائٹ ہاؤس نے مادور کی درخواست مسترد کر دی
وینزویلا کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ امریکی حکومت مادورو حکومت کو "غیر قانونی" سمجھتی ہے: کیرولین لیوٹ
وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز، وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی جانب سے دو دشمن ملکوں کے درمیان کشیدگی میں کمی کی خاطر کی گئی مذاکرات کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے ۔
یہ ردعمل ، وینزویلا کے دو حزب اختلاف رہنماؤں کے جنوبی امریکہ کے قریب امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کی حمایت کرنے اور اسے جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم قرار دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ٹرمپ نے منشیات کے خلاف آپریشن کے دائرہ کار میں آٹھ جنگی جہاز اور ایک آبدوز جنوبی کیریبین بھیجی ہے۔ اس کاروائی کو وینزویلا ممکنہ حملے کی تیاری سمجھتا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں امریکی فوجیں منشیات کے شبے میں وینزویلا کی تین کشتیوں کو تباہ کرچُکی ہیں۔ ان حملوں میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اتوار کے روز وینزویلا حکومت نے مادورو کا ٹرمپ کو ارسال کردہ ایک خط جاری کیا تھا۔ اس خط میں مادورو نے، انہیں منشیات فروش جتھوں کی قیادت کا قصوروار ٹھہرانے سے متعلق، امریکی الزامات کو "بالکل جھوٹ" قرار دیا اور ٹرمپ سے امن قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔
پیر کو وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے مادورو کے خط کو "جھوٹ کا پلندہ" قرار دیا اور کہا تھا کہ وینزویلا کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔ امریکی حکومت مادورو حکومت کو "غیر قانونی" سمجھتی ہے۔
کریبین میں حالیہ امریکی تعیناتی گذشتہ کئی سالوں میں بڑی ترین تعیناتی ہے۔ مادورو نے ٹرمپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے پہلے دورِ صدارت کی طرح اس دفعہ بھی ان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔
پیر کی رات اپنے ہفتہ وار ٹی وی پروگرام میں مادورو نے کہا تھا کہ "یہ پہلا خط تھا، میں یقینی طور پر مزید بھیجوں گا۔" انہوں نے مزید کہا ہےکہ ان کا مقصد "وینزویلا کی صداقت کا دفاع کرنا" ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اگر وہ ایک دروازہ بند کرتے ہیں تو ہم ایک اوردروازہ کھولیں گے۔ اگر وہ اسے بھی بند کرتے ہیں تو ہم ایک اور کھولیں گے یہاں تک کہ آپ کے ملک کی صداقت سے پوری دنیا واقف ہو جائے"۔
مادورو کے وزیر دفاع ولادیمیر پادرینو لوپیز نے گذشتہ ہفتے امریکہ پر کیریبین میں "غیر اعلانیہ جنگ" کرنے کا الزام لگایا اور کہا تھا کہ منشیات کے شبے میں تباہ کی گئی کشتیوں کے مسافروں کو "نہتی حالت میں قتل کیا گیا ہے"۔
وینزویلا کے ہزاروں شہریوں نے مادورو کی اپیل پر ملک کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے ایک شہری ملیشیا میں شمولیت اختیار کی ہے۔
تاہم کچھ شہریوں نے امریکی اقدامات کا خیر مقدم کیا ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ اقدامات مادورو کے زوال کو تیز کریں گے۔
جلاوطن صدارتی امیدوار ایڈمنڈو گونزالیز اوروتیا نے کہ جنہیں امریکہ وینزویلا کا جمہوری طور پر منتخب رہنما سمجھتا ہے کہا ہے کہ فوجی تعیناتی "مادورو کی زیرِ قیادت مجرمانہ ڈھانچے کے خاتمے کے لیے ایک ضروری قدم ہے" ۔
گذشتہ سال مادورو کے انتخابی فتح نے پرتشدد مظاہروں کو جنم دیا، جنہیں سختی سے دبایا گیا اور جس کے نتیجے میں دو درجن سے زیادہ افراد ہلاک اور سینکڑوں گرفتار ہوئے تھے۔
حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ انتخابات کے فاتح گونزالیز اوروتیاتھے اور انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے۔
گرفتاری کے خطرے کے پیش نظر گونزالیز اوروتیا اسپین فرار ہو گئے تھے۔
ایک اور اپوزیشن رہنما 'ہینریک کپریلیس' نے گذشتہ ہفتے کسی بھی امریکی حملے کی مخالفت کی اور کہا ہے کہ "میں اب بھی یقین رکھتا ہوں کہ حل فوجی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ ٹرمپ کے اقدامات غیر مؤثر ہیں اور " حزبِ اقتدار لوگوں کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔"