ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے

ٹرمپ انتظامیہ، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضے کے لئے، ایک بّری آپریشن پر غور کر رہی ہے

By
فائل تصویر: ایک ایرانی سیکیورٹی اہلکار ایرانی شہر اصفہان کے بالکل باہر واقع یورینیم کنورژن سہولت کے ایک حصے سے گزر رہا ہے، 30 مارچ 2005۔ / AP

ٹرمپ انتظامیہ، ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر قبضے کے لئے، ایک بّری آپریشن پر غور کر رہی ہے۔

سی این این کے لئے جاری کردہ بیان میں  فوجی حکام نے کہا ہے کہ  یقین ظاہر کیا جا رہا ہےکہ ایران نے بلند درجے کی افزودہ یورینیم  کو زمین دوز ذخیروں میں جمع کر رکھا ہے۔

حکام نے کہا ہے کہ یورینیم کے اس ذخیرے کو قبضے میں لینے کی فوجی کاروائی میں  امریکہ کے  صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑی تعداد میں امریکی بّری فوج کی ضرورت پڑے گی۔ افزودہ  یورینیم  کا ایک بڑا حصّہ ایران کی اصفہان جوہری تنصیب پر ہونے  کا امکان ہے۔ اس مواد کو تحویل میں لینا ٹرمپ کے ایران کی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے حکم سے ہم آہنگ ہو گا۔  

فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے یورینیم پر قبضے کے لیے آپریشن  شروع کروایا تو  تو یہ امریکی برّی فوج کی ،جنگ میں،   پہلی وسیع پیمانے کی شرکت ہو گی۔

اگر اس منصوبے کو شروع کیا گیا تو  بلند درجے کی افزودہ یورینیئم کو محفوظ شکل میں نکالنا اور منتقل کرنا ایک پیچیدہ مشن کا متقاضی ہو گااور بہت سے فوجیوں کی جان خطرے میں پڑ جائے گی۔

گذشتہ سال ماہِ جون میں امریکی فضائی حملوں میں تباہ ہونے والی اصفہان جوہری تنصیب میں موجود یورینیئم ،تنصیب کے، زیرِ زمین  ذخیرے میں ہے اور  بالائے زمین عمارت   کے ملبے کو صاف کرنے والے ایرانیوں کے  اسں مواد تک   پہنچنے  کا خطرہ  ہے ۔

امریکی خفیہ ایجنسیاں سمجھتی ہیں کہ ایرانیوں کو  زیرِ زمین سرنگوں تک رسائی حاصل ہے  کہ جہاں یورینیم چھپایا گیا ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر تقریباً 200 کلوگرام یورینیم ابھی بھی اصفہان تنصیب میں  موجود ہے۔ اس کے علاوہ ہ نطنز جوہری مرکز میں بھی  اضافی تابکار مادہ موجود ہے۔

ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام  پرامن ہے لیکن  ماہرین کا کہنا ہے کہ یورینیئم کی  تقریباً 90 فیصد سے زیادہ  افزودگی اسے  جوہری ہتھیار بنانے کے لیے قابل استعمال بنا دیتی ہے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق ایران کا یورینیئم اس وقت تقریباً 60 فیصد تک افزودہ ہے۔

ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ ایران کو کبھی جوہری ہتھیار بنانےکی اجازت نہیں دی جائے گی۔گذشتہ ماہ جاری کردہ بیان میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ "ایک بات یقینی ہے اور وہ یہ کہ میں  کبھی بھی دنیا کے دہشت گردوں کے نمبر ایک  سرپرست کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دوں گا"۔