عقل سلیم کا غلبہ: عالمی رہنماوں کے ایران۔ امریکہ جنگ بندی کے حوالے سے پیغامات
دنیا
9 منٹ پڑھنے
عقل سلیم کا غلبہ: عالمی رہنماوں کے ایران۔ امریکہ جنگ بندی کے حوالے سے پیغاماتیورپی، خلیجِ فارس اور ایشیا کے رہنماؤں نے دو ہفتے کی فائر بندی آور آبنائے ہرمز کو کھولے جانے کا خیر مقدم کیا ہے، لیکن انتباہ کیا ہے کہ طویل مدتی سمجھوتے کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل سیاسی مذاکرات کی ضرورت ہے۔
واشنگٹن ڈی سی، امریکہ میں 7 اپریل 2026 کو ایران میں فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرین کے احتجاج کے دوران ایک ایرانی پرچم۔ / Reuters
10 گھنٹے قبل

امریکہ-ایران جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بین الاقوامی ردعمل جاری ہے، متعدد ممالک نے دو ہفتے کے صلح نامے کی محتاط حمایت کا اظہار کیا ہے، خاموشی برقرار رکھنے کی تاکید کی اور ایک پائیدار سفارتی تصفیے کی طرف رفتار بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

امریکہ اور ایران نے دو ہفتوں کے لیے جنگ بندی پر اتفاق کیاہے تو اس نے عالمی سطح پر   سکھ کا سانس لینے  کے ساتھ ساتھ خدشات  کو بھی جنم دیا ہے۔

تہران نے آبنائے  ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے ، جس سے کاری صرب لگنے والی  عالمی معیشت کے حوالے سے تشویش میں  کمی آئی ہے۔

اگرچہ یہ اعلان بین الاقوامی سطح پر عمومی طور پر خوش آئند قرار دیا گیا، لیکن جنگ  کے دوبارہ شروع ہونے کا سد ِ باب کرنے  کے لیے ابھی بہت کام باقی ہے؛ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹریش نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ "ایک پائیدار اور جامع امن کی راہ ہموار کریں۔"

ترکیہ

انقرہ نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور ترک وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں زور دیا کہ "عارضی جنگ بندی کو زمینی سطح پر مکمل طور پر نافذ ہونا چاہیے اور امید ہے کہ تمام فریقین طے پانے والے  معاہدے پر عمل درآمد کریں  گے۔"

بیان میں کہا گیا کہ مستقل امن کا راستہ صرف مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور "ہم اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری تعاون جاری رکھیں گے۔"

ترکیہ نے اس حوالے سے  پاکستانی کردار کو بھی سراہا اور امن میں معاون تمام اقدامات کے تسلسل کی تمنا کا بھی اظہار کیا۔

پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف نے اسے "فہمیدہ اشارے" کے طور پر خوش آئند قرار دیا اور دونوں ملکوں کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے دونوں فریقین کی مندوبین کو مزید مذاکرات کے لیے 10 اپریل کو اسلام آباد آ نے کی دعوت دی، جس کا مقصد تمام تنازعات کے حل کے لیے حتمی معاہدہ طے کرنا ہے۔

روس

روسی سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ دیمتری میدویدیف نے کہا کہ امریکہ-ایران جنگ بندی اس بات کی علامت ہے کہ عقل غالب آئی، لیکن " تیل  سستا نہیں ہوگا۔"

چین

چین نے بدھ کو امریکی-ایرانی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے لڑائی روکنے کے لیے "کوششیں" کیں۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے بیجنگ میں ایک معمول کے نیوز کانفرنس کے دوران کہا کہ حکومتِ چین ، پاکستان کی کوششوں کی قدر کرتی ہے۔

ماؤ نے کہا کہ چین "جنگ بندی اور سیاسی ذرائع سے تنازعہ کے حل" کا حامی ہے تاکہ خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں طویل المدتی استحکام حاصل کیا جا سکے، اور بیجنگ نے اس مقصد کے لیے اپنی کوششیں صرف کی ہیں۔

ملائشیا

ملیشیائی وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اسے ایک "مثبت پیش رفت" قرار دیا، حوالہ دیتے ہوئے ایران کے  ایک مجوزہ 10 نکاتی منصوبہ بندی کو جسے واشنگٹن نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

انہوں نے لکھا: "یہ تجویز نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے لیے امن اور استحکام کی بحالی کی نوید ہے۔"

انور نے زور دیا کہ کوئی بھی پائیدار حل ایران تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ عراق، لبنان اور یمن میں بھی استحکام کو شامل کرنا ہوگا اور غزہ میں انسانی بحران کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے  وزیرِ اعظم شہباز شریف کی "بے لوث اور بہادرانہ سفارت کاری" کی تعریف کی اور اسلام آباد کے کردار کو اجاگر کیا۔

جاپان

اسی دوران جاپان کے چیف کیبنٹ سیکرٹری منورو کیہارا نے اس جنگ بندی کو "مثبت اقدام" قرار دیا اور کہا کہ بامقصد کشیدگی میں کمی اولین ترجیح ہے ۔

ٹوکیو نے امید ظاہر کی کہ عارضی صلح نامہ حتمی اور پائیدار معاہدے کی طرف لے جائے گا۔

آسٹریلیا

آسٹریلیا نے بھی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے معاہدے کا خیرمقدم کیا؛ وزیرِ اعظم انتھونی البانیز نے بدھ کو کہا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کا موقع فراہم کرتا ہے۔

البانیز نے ایک بیان میں کہا: " واضح رہے کہ جتنی زیادہ جنگ جاری رہی، عالمی معیشت اور انسانی نقصان پر اس کا اتنا ہی گہرا اثر ہوگا۔"

کینبرا  حکومت کا کہنا ہے  کہ وہ اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے اور ضروری امداد کو متاثرہ آبادی تک پہنچانے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت میں بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریب سے کام کر رہا ہے۔

نیوزی لینڈ

نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ون اسٹن پیٹرز نے بدھ کو دو ہفتے کی جنگ بندی کے معاہدے کو خوش آئند قرار دیا جبکہ زور دیا کہ پائیدار حل کے حصول کے لیے ابھی اہم کام باقی ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا: "یہ تسلی بخش خبر ہے، مگر آئندہ دنوں میں مستقل جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے اہم اور ضروری کام باقی ہیں۔"

عمان

عمان نے بدھ کو اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور تنازعہ کے پائیدار حل کے حصول کے لیے کوششوں میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا۔

وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں عمان نے خاص طور پر پاکستان کی قیادت میں کی گئی مصالحتی کوششوں کی قدردانی کی اور جنگ ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے دیگر فریقین کا بھی اعتراف کیا۔

بیان میں زور دیا گیا کہ جنگ بندی کو بنیاد بنا کر "بحران کی بنیادی وجوہات" کا حل تلاش کیا جائے اور خطے میں دشمنیوں کا مستقل خاتمہ یقینی بنایا جائے۔

متحدہ عرب امارات

ایک اعلیٰ اماراتی عہدیدار نے بدھ کو کہا کہ جب امریکہ اور ایران نے دو ہفتے کے عہد کا اعلان کیا تو اُن کا ملک جنگ میں ’’فتح یافتہ‘‘ رہا۔

صدراتی مشیر انور غاش نے ایکس پر لکھا: "متحدہ عرب امارات ایک ایسی جنگ سے کامیابی سے نکلا ہے  جس سے ہم بچنے کی کوشش کرتے رہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "آج ہم وسیع وسائل، بہتر سمجھ بوجھ، اور مستقبل کو متاثر کرنے کی زیادہ مضبوط صلاحیت کے ساتھ ایک پیچیدہ خطّی منظرنامے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔"

مصر

مصر نے منگل کو اس پیش رفت کو خوش آئند قرار دیا اور اسے مذاکرات آگے بڑھانے کے لیے ایک "اہم موقع" کہا۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کی معطلی اور ایران کے ردِ عمل نے مذاکرات، سفارتکاری اور تعمیری مکالمے کے دروازے کھولنے کا ایک اہم موقع پیدا کیا ہے۔

بیان میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی خودمختاری، اتحاد اور سرحدی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا، کسی بھی خلاف ورزی کی مزاحمت کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ ان کی سلامتی مصر کی اپنی سلامتی سے گہرائی میں جڑی ہوئی ہے۔

عراق

عراق نے منگل کو اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں "سلامتی اور استحکام" کو مضبوط کرنے میں مدد دے گی۔

وزارتِ خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ "ہم امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہیں" اور اس کو ایک قدم قرار دیا گیا جو "تناؤ کم کرے گا،  امن و امان کے  امکانات کو بڑھائے گا اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو مضبوط کرے گا۔"

وزارت نے کہا کہ وہ کسی بھی ایسے علاقائی اور بین الاقوامی اقدامات کی حمایت کرے گی جو بحرانوں کو کنٹرول کرنے اور مکالمہ و سفارت کاری کو ترجیح دینے میں معاون ہوں، اور جنگ بندی کی مکمل پابندی کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کسی بھی عمل یا کشیدگی سے دوبارہ تناؤ پیدا نہ ہو۔

سعودی عرب

سعودی عرب نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور دو ہفتے کی کشیدگی میں کمی کی حمایت کی، ساتھ ہی زور دیا کہ آبنائے  ہرمز پر کوئی پابندی عائد کیے بغیر جہاز رانی کے لیے کھلا رہنا چاہیے۔

جرمنی

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بدھ کو اس اعلان کا خیرمقدم کیا۔

مرز نے ایکس پر لکھا: "میں امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ شب طے پانے والی دو ہفتے کی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتا ہوں۔ ہم پاکستان کے ثالثی کردار کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔"

انہوں نے نوٹ کیا کہ اب مقصد جنگ کا "پائیدار خاتمہ" طے کرنا ہے اور کہا: "اس معاملے میں ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی میں ہیں۔"

برطانیہ

برطانوی  وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا، انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ "خطے اور دنیا کے لیے ایک سہولت کا لمحہ لائے گا۔"

اسٹارمر کے دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا: "اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ہمیں اس جنگ بندی کی حمایت اور برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے، اسے ایک پائیدار معاہدے  کی ماہیت دلا کر  آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنا ہوگا۔"

فرانس

صدر ایمانوئل میکرون نے بدھ کو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور اسے "خوش آئند " قرار دیا۔

انہوں نے دفاع اور سیکورٹی کے اعلیٰ حکام کی ایک میٹنگ کے آغاز میں کہا: "ہم توقع کرتے ہیں کہ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں یہ خطے بھر میں پوری طرح مراعات پذیر رہے گا اور مذاکرات ممکن بنائے گا۔"

انہوں نے کہا: "ہماری خواہش یہ ہے کہ جنگ بندی میں لبنان کو بھی مکمل طور پر شامل کیا جائے۔"

اسپین

اسپین کے وزیرِ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ دنیا تباہی کے انتہائی قریب پہنچ گئی تھی جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے سامنے الٹی میٹم میں ایرانی تہذیب کو ملیا میٹ کرنے  کی دھمکی دی تھی۔

خوسے مینوئل البارس نے RNE ریڈیو کو بتایا کہ ٹرمپ کا الٹی میٹم "انسانیت کے لیے بالکل ناقابلِ قبول" تھا اور یہ طے کرنا ابھی قبل از وقت ہے کہ آیا  کہ جنگ  لازمی طور پر ختم ہو چکی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا: "جب ایک بڑی طاقت کالیڈر ایسی دھمکیاں دیتا ہے تو میں اسے سنجیدہ لیتا ہوں۔"

اسرائیل

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے معاہدے کو کمزور کرنے کی کوشش کی، انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طے پانے والی دو ہفتوں کی حملوں کی معطلی کے فیصلے کی حمایت کی مگر اس معطلی پر شرائط عائد کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اس اقدام کی حمایت صرف اس صورت میں کرتا ہے اگر ایران فوراً آبنائے  ہرمز دوبارہ کھول دے اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک پر حملوں کو روک دے۔

اس نے کہا کہ اسرائیل ان کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا ہدف یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران مستقبل میں علاقے کے لیے کوئی جوہری، میزائل یا جو اسے "دہشتگردانہ خطرہ" قرار دیا جاتا ہے، نہ رہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ واشنگٹن نے آئندہ مذاکرات میں ان مقاصد کے لیے اپنی وابستگی کو دوبارہ دہرا دیا ہے۔

مزید برآں کہا گیا کہ یہ دو ہفتے کی جنگ بندی لبنان کا احاطہ نہیں  نہیں کرتی۔

 

دریافت کیجیے
عالمی ادارۂ صحت: غزہ سے طبی انخلاء عارضی طور پر روک دیا گیا ہے
عرب ممالک کی انتہائی مذہب پرست اسرائیلی وزیر کی مسجدِ الاقصیٰ کا معائنہ کرنے پر شدید مذمت
ترکیہ-سعودی عرب معاہدہ۔ٹرانزٹ تجارت کا آغاز
لوہانسک میں یوکریینی حملے سے درجنوں کان کن زیر زمین محصور ہو گئے
غزّہ میں ایسٹر: تصاویر کے آئینے میں
اسرائیلی فائرنگ سے ایک فلسطینی ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوگئے، فائر بندی کے باوجود اسرائیلی حملے جاری
جنوبی کوریا کے صدر کا اظہارِ پشیمانی
تہران پر امریکی اور اسرائیلی حملے، 17 افراد ہلاک
ایران پر تازہ حملے، 25 سے زیادہ افراد ہلاک
اسرائیل نے نسلی صفائی نہ روکی تو مقدر "دی ہیگ" ہوگا:اہود اولمرت
اسرائیل کےجنوبی لبنان پر حملے،20 افراد ہلاک
ایرانی ڈرون حملوں سے کویتی حکومتی کمپلیکس کو بڑے نقصان کا سامنا
غزہ پر اسرائیل کا فضائی حملہ، تین فلسطینی جاں بحق
ایران میں گرے  ایف-15 کے دوسرے پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے:ٹرمپ
بنگلہ دیش: کارخانے میں آگ لگ گئی،5 افراد جل کر ہلاک