اسرائیل نے رفح کراسنگ کو 'محدود سطح پر' دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے
امریکی نمائندوں نے اسرائیل پر دباؤ ڈالا کہ وہ غزہ میں امداد کی آمد کے لیے حیاتی اہمیت رکھنے والے بارڈر کو دوبارہ کھول دے۔
اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح سرحدی چوکی کو محصور علاقے میں آخری قیدی کی لاش بازیاب کر لینے تک محدود سطح تک کھولنے کی اجازت دے گا ۔
اسرائیل نے یہ اعلان دورے پر آئے امریکی مندوبین کی طرف سے غزہ کو امداد کے لیے ایک اہم داخلی راستے رفح گزر گاہ کو دوبارہ کھولنے کے مطالبے کے بعد کیا ہے۔
رفح سرحدی چوکی کو آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولا جانا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اکتوبر میں اعلان کردہ غزہ کے جنگ بندی فریم ورک کا حصہ ہے، لیکن گزرگاہ نسل کشی کے دوران اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں آنے کے بعد بند رہی۔
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ دوبارہ کھولنا "تمام زندہ یرغمالیوں کی واپسی اور ہلاک شدہ تمام یرغمالیوں کو تلاش کر کے واپس لانے کے لیے حماس کی 100 فیصد کوشش" پر منحصر ہوگا۔
اس نے کہا کہ اسرائیلی فوج "اس وقت ایک مرکوز آپریشن کر رہی ہے تاکہ تلاش اور واپسی کی کوششوں کے دوران جمع کردہ انٹیلی جنس کے مطابق لا کر رن گویلی کی لاش کو تلاش کر کے واپس لایا جا سکے گا۔"
"اس آپریشن کے مکمل ہونے اور امریکہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق اسرائیل رفح سرحدی چوکی کو کھول دے گا"
اسرائیلی خلاف ورزیاں
رفح بارڈر جو غزہ اور مصر کو جوڑتا ہے، کو اکتوبر میں دوبارہ کھولنے کا منصوبہ تھا؛ دراصل یہ جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے جو 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا ، لیکن اسرائیل نے اس پر عمل نہیں کیا تھا۔
وزارت ِ صحت کے مطابق جنگ بندی معاہدے کے نافذ ہونے کے بعد سے، اسرائیلی فوج نے سینکڑوں خلاف ورزیاں کی ہیں، جن میں کم از کم 484 فلسطینی ہلاک اور 1,321 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے محصور علاقے میں اپنی نسل کشی کے دوران 71,000 سے زائد فلسطینی، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں، کو قتل کیا ہے۔
اس نے محصور علاقے کو ملبے میں بدل دیا ہے اور اس کی پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے۔