پولینڈ نے اپنی فضائی حدود پر پابندیاں لگا دیں

فوجی طیارے خارج تمام پروازیں غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک بند رہیں گی: پولینڈ

پولینڈ اپنے مشرقی سرحد پر تقریباً 40,000 فوجی تعینات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ / تصویر: رائٹرز / Reuters

پولینڈ نے مشرق میں اپنی 'بیلاروس اور یوکرین سرحدوں' پر فضائی نقل و حمل پر پابندیاں لگا دی ہیں۔

پولینڈ مسلح افواج آپریشنل کمانڈ آفس نے بروز جمعرات جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ " یہ فیصلہ 10 ستمبر کو روسی ڈرونوں کے پولینڈ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے  کے بعد کیا گیا ہے۔

ٹی وی پی ورلڈ  کی خبر کے مطابق پولش ایئر نیویگیشن ایجنسی نے کہا ہے کہ یہ پابندیاں بدھ کی رات سے نافذ ہوئیں اور 9 دسمبر تک برقرار رہیں گی ۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "فوجی طیارے خارج تمام پروازیں غروب آفتاب سے طلوع آفتاب تک بند رہیں گی۔ اس کے علاوہ  EP R129 زون میں شہری ڈرون مکمل ممنوع ہوں گے۔

یہ قدم پولینڈ کے، نیٹو طیاروں کی مدد سے، مشتبہ روسی ڈرونوں کو  گرانے کے بعد  اُٹھایا گیا ہے۔یہ پہلا موقع ہے جب  کسی نیٹو اتحاد ی نے یوکرین جنگ کے دوران گولیاں چلائی ہیں۔

روس  وزارت دفاع نے ،مغربی یوکرین میں فوجی اہداف پر وسیع پیمانے کے ڈرون  حملے کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ ان حملوں سے اس کی نیت  پولینڈ کی زمین کو نشانہ بنانا نہیں تھی۔  

فوجی تعیناتی میں اضافہ

پولینڈ، 12 ستمبر سے جاری روس۔بیلاروس کی زاپاد فوجی مشقوں کے جواب میں، اپنی مشرقی سرحد پر تقریباً 40,000 فوجیوں کو تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ سرحد پر  پہلے تقریباً10,000 متعین ہیں۔

ڈپٹی وزیر دفاع سیزارے ٹومچیک نے ان مشقوں کو "جارحانہ" قرار دیا  اور کہا ہے کہ "زاپاد۔2025 کا مناسب جواب دینے کے لئے پولش اور نیٹو  فوجیوں کی ضرورت ہے ۔

پولینڈ کی درخواست پر، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر غور کرنے کے لیے ایک ہنگامی اجلاس منعقد کرے گی۔