ترکیہ: غزہ کے حالات ایک دلدوزیاد دہانی اور ایک سنجیدہ تنبیہ کی حیثیت رکھتے ہیں
غزہ کے حالات، ماضی کے المیوں سے سیکھے ہوئے سبق کودورِ حاضر کے حالات کا رہبر بنانے کے لئے، 'ایک دلدوزیاد دہانی اور ایک سنجیدہ تنبیہ' کی حیثیت رکھتے ہیں: ترکیہ
اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کی مشیر 'گُل شاہ جُمرجُو قدر' نے خبردار کیا ہے کہ "بین الاقوامی برادری، نسل کشی کے ہم پلّہ ، سنگین مظالم کا مشاہدہ کر رہی ہے ۔ غزہ کی صورتحال ان سنگین بین الاقوامی جرائم کی تکرار کے سدّباب کی فوری ضرورت کی ایک دردناک یاد دہانی ہے"۔
متاثرینِ نسل کشی کے عالمی دن کی 10ویں سالانہ یاد کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل کمیٹی سے خطاب میں گُل شاہ نے کہا ہے کہ " اگرچہ دوسری عالمی جنگ اور ہولوکاسٹ کے بعد کیا گیا 'دوبارہ کبھی نہیں' کا عہد ہمارے اجتماعی ضمیر میں برقرار ہے لیکن آج بھی بین الاقوامی برادری ایسے مظالم کا مشاہدہ کر رہی ہے جن کی سنگینی نسل کشی تک پہنچی ہوئی ہے"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "غزہ کے حالات، ماضی کے المیوں سے سیکھے ہوئے سبق کودورِ حاضر کے حالات کا رہبر بنانے کے لئے، 'ایک دلدوزیاد دہانی اور ایک سنجیدہ تنبیہ' کی حیثیت رکھتے ہیں"۔
گُل شاہ نے یہ بھی کہا ہےکہ" بین الاقوامی قانون کو تمام کاروائیوں کا رہبر بنایا جانا چاہیے اور قطعی آئینی اصطلاح کے ساتھ تعریف کئے گئے لفظ "نسل کُشی" کو،داخلی سیاسی مقاصد کی خاطر بین الاقوامی قانون اور مقتدر عدالتوں کے فصلوں سے، متضاد شکل میں استعمال کرنےسے پرہیز کیا جانا چاہیے"۔
انہوں نے عالمی حکومتوں سے، سیاسی مقاصد کی خاطر ،نسل کُشی کی اصطلاح کے استعمال سے گریز کرنے کی اپیل کی اور خبردار کیا ہےکہ دنیا میں، نسلی تفریق، غیر ملکیوں سے دشمنی، اسلاموفوبیا، امتیازیت اور دوسروں کے لئے عدم برداشت کے جذبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
'غزہ میں ہمارے مشاہدے میں آنے والے جرائم جیسی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کے لیے کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ احتساب، اس نوعیت کے حالات کے سدّباب کے لئے، کلید کا کردار ادا کرتا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کی مشیر 'گُل شاہ جُمرجُو قدر' نے پیشگی تنبیہی اشاروں کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کیا اور کہا ہے کہ 'دوبارہ ہرگز نہیں' کا عہد پورا کرنے کے لئے اقوامِ متحدہ کے نظام کے اندر مضبوط ہم آہنگی ایک بنیادی شرط ہے۔