دنیا بھر سے امریکی حملوں اور صدر مادورو کی 'گرفتاری' پر تشویش

ہم، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے کسی منفی نتیجے سے بچنے کے لئے، تمام فریقین سے اعتدال کا مطالبہ کرتے ہیں: ترکیہ وزارت خارجہ

By
Trump announced the "capture" of Maduro and his wife in unprecedented military action against Venezuela. / AP

امریکی فوجی حملوں کے معاملے پر بین الاقوامی سطح پر سخت مذمت کی لہر دیکھی گئی ہے۔ دنیا بھر کے رہنماؤں اور قانون سازوں نے لاطینی امریکی ملک وینزویلا  پر امریکی حملے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی  قرار دیا  اور کہا ہے کہ یہ حملہ اپنے اندر وسیع پیمانے پر عدم استحکام  پھیلانے کا  خطرہ لئے ہوئے ہے۔

ذیل میں اہم ردعمل کا خلاصہ پیش ہے۔

چین

چین نے وینیزویلا پر امریکی کارروائی کی مذمت کی اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

چین وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ "چین گہرے صدمے میں ہے اور خود مختار ملک کے خلاف اور ایک ملک کے صدر کے خلاف طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کرتا ہے"۔

وزارتِ خارجہ نے مزید کہا ہے کہ "چین، امریکہ کی طرف سے ایک خودمختار ملک اور اس ملک کے صدر کے خلاف طاقت کے استعمال کی مذّمت    کرتا ہے۔چین ، امریکہ کے اس نوعیت کے غاصبانہ روّیے   کی مخالفت کرتا ہے۔ یہ روّیہ  لاطینی امریکہ اور کیریبین کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ہم امریکہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد و اصول کی پابندی کرے اور دوسروں کی خودمختاری اور سلامتی کی خلاف ورزی بند کرے"۔

روس

روس  وزارتِ خارجہ کے مطابق  وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کے ساتھ فونک ملاقات کی اور  کہا ہے کہ "ہم، اس مسلح جارحیت کے مقابل  وینزویلا کے عوام کے ساتھ مضبوط یکجہتی"  کا اظہار کرتے ہیں"۔

وزارتِ خارجہ  نے کہا ہے کہ فریقین نے مزید کشیدگی کو روکنے اور بات چیت کے ذریعے صورتِ حال کا کوئی راستہ تلاش کرنے کے بارے میں بات چیت کی ہے۔

بیان میں  روڈریگز کے روس میں ہونے کی اطلاع  بھی غلط ہے۔

اس سے پہلے، روسی وزارتِ خارجہ نے ان حملوں کو ‘‘مسلح جارحیت’’ قرار دے کر مذمت کی تھی اور واشنگٹن کی جانب سے پیش کی گئی وجوہات کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ وزارت نے مزید کشیدگی کی وارننگ دی اور کہا  تھاکہ ماسکو مکالمے کے ذریعے حل کی حمایت کرتا  اور بین الاقوامی قواعد کی پابندی کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔

ترکیہ

ترکیہ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ انقرہ حالات پر 'بغور' نگاہ رکھے ہوئے ہے اور وینیزویلا کے استحکام اور اس کے عوام کی فلاح و بہبود کو اہمیت دیتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "ہم، علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی کے حوالے سے  کسی منفی نتیجے سے بچنے کے لئے، تمام فریقین سے اعتدال کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

ترکیہ وزارتِ خارجہ نے کہا ہے  کہ ہم، بین الاقوامی قانون کے مطابق وینیزویلا بحران کے حل میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس پورے عمل کے دوران ہمارا کاراکاس سفارت خانہ  وہاں موجود ترک  شہریوں کے ساتھ مسلسل  رابطے میں  ہے"۔

ایران

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ "اہم بات یہ ہے کہ جب کسی شخص کو احساس ہو کہ دشمن اپنے تکّبر  میں اس کے ملک، عہدیداروں، حکومت اور قوم پر کچھ مسّلط کرنے  کی کوشش کر رہا ہے تو اسے دشمن کے خلاف ثابت قدمی سے کھڑا ہونا چاہیے اور مزاحمت کے دوران  بے خوف رہنا چاہیے۔ ہم دشمن کے آگے کبھی نہیں جھکیں گے"۔

برازیل

برازیل کے صدر لویز ایناسیو لولا دا سلوا نے امریکی حملوں کو وینیزویلا کی خودمختاری کی "سنگین توہین" قرار دیا ہے۔

انہوں  نے کہا ہے کہ "وینیزویلا کی زمین پر بمباری اور اس کے صدر کی گرفتاری ایک ایسی کاروائی ہے جو  ناقابلِ قبول حد تک آگے نکلی ہوئی ہے۔ یہ اقدامات وینیزویلا کی خودمختاری کی سنگین توہین  اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک بے حد خطرناک  ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا  ہےکہ "بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی ملک پر حملہ کرنا  پُر تشدد، افراتفری کی شکار  اورغیر استحکام دنیا کی جانب پہلا قدم ہے۔ ایک ایسی دنیاجہاں طاقتور کا قانون کثیر الجہتی اقدار پر حاوی ہو جائے"۔

جنوبی افریقہ

جنوبی افریقہ کی محکمۂ بین الاقوامی تعلقات نے کہا ہے کہ "جنوبی افریقہ، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری اجلاس طلب کرنے کی اپیل کرتا ہے تاکہ اس صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے"۔

کینیڈا

کینیڈا کی وزیرِ خارجہ انیتا آنند نے کہا ہے کہ "کینیڈا تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور ہم وینزویلا کے عوام کے ساتھ ہیں اور  ان کے لئے پُر امن اور جمہوری معاشرے  کی امید رکھتے ہیں۔ کینیڈا اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور حالات کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔”

اٹلی

یورپی بڑے ممالک میں شاذ و نادر ہی امریکی کارروائی کی حمایت میں رائے سامنے آئی؛ دائیں بازو کی اٹلی کی وزیرِ اعظم جورجیا میلونی — جو ٹرمپ کی حلیف ہیں — نے وینیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو “قانونی” اور “دفاعی” قرار دیا ہے۔

اسرائیل

اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے امریکی حملوں کا خیرمقدم کیا اور کہا  ہےکہ واشنگٹن نے "آزاد دنیا کے لیڈر" کے طور پر قدم اٹھایا ہے۔

وزیرِ خارجہ گیڈیون سار نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل آزادی پسند وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے، جو مادورو کی غیر قانونی آمریت کے تحت تکلیف اٹھا رہے تھے۔ اسرائیل ڈکٹیٹر کی برطرفی کا خیرمقدم کرتا اور امید کرتا ہے کہ ملک میں جمہوریت لوٹ آئے گی اور دونوں ریاستوں کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہوں گے۔”

فرانس

فرانس نے کہا کہ وینیزویلا میں کوئی ایسا حل نہیں ہو سکتا “جو باہر سے مسلط کیا جائے۔”

وزیرِ خارجہ ژاں-نوئل بیرّو نے لکھا کہ “نکولس میڈورو کی گرفتاری کی وجہ سے ہونے والی عسکری کارروائی اس اصول کی خلاف ورزی کرتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے گریز کیا جائے، جو بین الاقوامی قانون کی بنیاد ہے۔ فرانس دہراتا ہے کہ پائیدار سیاسی حل باہر سے مسلط نہیں کیا جا سکتا اور صرف خود مختار عوام ہی اپنا مستقبل طے کر سکتے ہیں۔”

ارجنٹائن

صدر جاویر میلیئی، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مضبوط علاقائی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، نے لکھا: “آزادی آگے بڑھے گی۔ آزادی زندہ باد!”

میلئی نے اپنے بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جہاں وہ ایک سمٹ میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں، مادورو کو خطے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں اور کاراکاس پر ٹرمپ کے دباؤ کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ “اس موضوع پر احتیاطی رویہ اختیار کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔”

سپین

سپین نے کشیدگی کم کرنے اور اعتدال اپنانے کی اپیل کی اور کہا کہ ہر اقدام ہمیشہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

بیرونی وزارت نے کہا کہ “اس سلسلے میں، سپین امن اور مذاکرات کے ذریعے موجودہ بحران کے حل کے لیے اپنی مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔”

انڈونیشیا

انڈونیشیا نے کہا کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وینیزویلا میں موجود حالات کا جائزہ لے رہا ہے، یہ بات اس کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہی۔

وزارت نے مزید کہا: “انڈونیشیا تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ کشیدگی کو کم کر کے بات چیت کے ذریعے پرامن حل کو ترجیح دیں اور شہریوں کے تحفظ کو مقدم رکھیں۔”

انڈونیشیا نے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کا احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔

ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو

ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی وزیرِ اعظم کاملا پرسڈ-بسسرار نے کہا: “آج صبح، ہفتہ، 3 جنوری 2026 کو، ریاستِ متحدہ نے وینیزویلا کے علاقے میں فوجی کارروائیاں شروع کر دیں۔

ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو ان جاری فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں ہے۔ ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو وینیزویلا کے عوام کے ساتھ پرامن تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔”

میکسیکو

میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا: “میکسیکو حکومت اُس ملٹری کارروائی کی سخت مذمت اور مسترد کرتی ہے جو گذشتہ چند گھنٹوں میں ریاستِ متحدۂ امریکہ کی مسلح افواج نے یک طرفہ طور پر بولیواریائی جمہوریہ وینیزویلا کے علاقے کے خلاف انجام دی، جو اقوامِ متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 2 کی واضح خلاف ورزی ہے۔”

بیان میں کہا گیا: “میکسیکو زور دے کر دہراتا ہے کہ مکالمہ اور مذاکرات ہی موجودہ اختلافات کو حل کرنے کے واحد جائز اور مؤثر ذرائع ہیں، اور اسی وجہ سے وہ کسی بھی ایسی کوشش کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جو خطے میں امن کو برقرار رکھنے اور تصادم سے بچنے کے لیے مکالمہ، ثالثی یا معاونت فراہم کرے۔”

کیوبا

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز-کانیل نے وینیزویلا پر حملوں کو “امریکی مجرمانہ حملہ” قرار دیتے ہوئے فوری بین الاقوامی ردعمل کا مطالبہ کیا۔

اپنی ایک پوسٹ میں انہوں نے کہا: “ہمارے خطے پر بہیمانہ حملہ ہو رہا ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی ہے بہادر وینیزویلا کے عوام اور ہمارے امریکہ کے خلاف۔”

کولمبیا

کولمبیا کے صدر گوستاوو پیٹرو نے کہا: “کولمبیائی جمہوریہ کی حکومت وینیزویلا میں گزشتہ گھنٹوں میں رپورٹس میں مذکور دھماکوں اور غیر معمولی فضائی سرگرمیوں اور خطے میں تناؤ میں اضافے کی اطلاعات کو گہری تشویش کے ساتھ دیکھتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ کولمبیا اقوامِ متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کے احترام، خاص طور پر ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، طاقت کے استعمال یا طاقت کے استعمال کی دھمکی کی ممانعت اور بین الاقوامی تنازعات کے پرامن حل کے لئے غیر مشروط عزم کی تصدیق کرتا ہے۔ اس حوالہ سے کولمبیائی حکومت کسی بھی یکطرفہ فوجی کارروائی کی مخالفت کرتی ہے جو صورتحال کو بگھاڑ سکتی ہو یا شہری آبادی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

امریکہ کے ڈیموکریٹک قانون ساز

ریاستہائے متحدہ کے اندر کئی ڈیموکریٹک قانون سازوں نے ان حملوں کو غیر قانونی اور بغیر اجازت قرار دے کر تنقید کی۔

سینیٹر رُوبن گلیگو نے اس آپریشن کو “میرے دورِ حیات کی دوسری ناجائز جنگ” قرار دیا اور واشنگٹن پر غیر ضروری تنازع میں مبتلا ہونے کا الزام لگایا: “وینیزویلا کے ساتھ ہماری جنگ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔”

کانگریس رکن جم میک گورون نے بھی کانگریس کی منظوری اور عوامی حمایت کی عدم موجودگی پر تشویش ظاہر کی، اور سوال اٹھایا کہ بیرونِ ملک فوجی کارروائی پر فنڈز خرچ کرنے کے بجائے ان کو گھر کے معاملات کے لیے کیوں خرچ نہیں کیا جا رہا۔

برطانیہ

برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "میں پہلے حقائق معلوم کرنا چاہتا ہوں۔ میں صدر ٹرمپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں اتحادیوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں واضح طور پر کہہ سکتا ہوں کہ ہم ملوث نہیں تھے ... اور میں ہمیشہ کہتا ہوں اور مانتا ہوں کہ ہمیں بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرنی چاہیے۔”

برطانوی قانون ساز

برطانیہ میں متعدد قانون سازوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ خود مختار ملک پر ایک غیر قانونی حملے کی مذمت کرے۔

آزاد قانون ساز زارہ سلطانہ نے کہا کہ وینیزویلا کے وسیع تیل کے ذخائر اس تنازعہ کا مرکز ہیں، اور انہوں نے ان حملوں کو “عریان امریکی امپیریلزم” قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقصد حکومت کا تختہ الٹنا اور وسائل کا لوٹنا ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر کی لیبر حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کارروائی کی غیر مبہم مذمت کرے۔

یوکرین

یوکرین کی وزارتِ خارجہ نے کہا: “یوکرین نے مستقل طور پر اقوام کو آزاد زندگی، آمریت، ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے پاک رہنے کے حق کا تحفظ کیا ہے۔ مادورو  حکومت نے ہر لحاظ سے ان اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔”

بیان میں کہا گیا کہ یوکرین بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق مزید پیش رفت کے حق میں ہے، اور جمہوریت، انسانی حقوق اور وینیزویلا کے عوام کے مفادات کو مقدم رکھتا ہے۔

بیلاروس

بیلاروس کے صدر الکساندر لوکاشینکو نے امریکی جارحیت  کی سختی سے مذمت کی۔ بیلٹا نیوز ایجنسی نے صدر کے ترجمان ناتالیا ایسیمونٹ کے حوالے سے کہا کہ لوکاشینکو نے حال ہی میں امریکی صحافیوں کے ساتھ ایک انٹرویو میں اس کے نتائج کے بارے میں بات کی اور کہا کہ “یہ دوسرا ویتنام ہوگا۔ اور امریکیوں کو اس کی ضرورت نہیں ہے۔”

ایکواڈور

صدر گیبریل نوبوا نے ایکس پر لکھا: “تمام نرکو-چاویستا جرائم پیشہ افراد کے لیے وقت آ رہا ہے۔ ان کا ڈھانچہ آخر کار پورے براعظم میں منہدم ہو جائے گا۔”

انہوں نے کورینا ماچادو، ایڈموندو گونزالیز اور وینیزویلا کے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “یہ آپ کا ملک واپس لینے کا وقت ہے۔ آپ کو ایکواڈور میں ایک حلیف ملے گا۔”

یوروگوئے

یوروگوئے کی وزارتِ خارجہ نے کہا: “مشرقی جمہوریہ یوروگوئے کی حکومت وینیزویلا سے گزشتہ گھنٹوں میں موصول شدہ واقعات، جن میں وینیزویلا کے فوجی تنصیبات اور شہری بنیادی ڈھانچے پر امریکی فضائی حملے شامل ہیں، کو قریب سے اور سنجیدہ تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔”

یوروگوئے نے ایک دوسرے ملک کی سرزمین میں فوجی مداخلت کی مخالفت کی اور بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام کی اہمیت کو دہرایا، خاص طور پر اس بنیادی اصول کو کہ ریاستیں کسی دوسری ریاست کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔

چلی

صدر گیبریل بورک نے کہا: “چلی کی حکومت وینیزویلا میں ریاستہائے متحدہ کی فوجی کارروائیوں پر اپنی تشویش اور مذمت کا اظہار کرتی ہے اور ملک کو درپیش سنگین بحران کے پرامن حل کا مطالبہ کرتی ہے۔”

انہوں نے کہا کہ چلی بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کے پابند رہنے کا عہد دہراتا ہے، جیسے طاقت کے استعمال کی ممانعت، عدم مداخلت، بین الاقوامی تنازعات کا پرامن حل اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت۔

یوروپی یونین

یورپی یونین نے بھی تحمل کا اظہار کرنے کی اپیل کی۔ یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے بات کی اور بلاک حالات کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔

کالاس نے ایک بار پھر اس موقف کی تاکید کی کہ مادورو “قانونی حیثیت کے حامل نہیں ہیں” اور وینیزویلا میں پرامن عبوری عمل کی حمایت کی، مگر زور دیا کہ “ہر حال میں بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں کا احترام ضروری ہے۔”

ڈنمارک

ڈنمارک کے وزیرِ خارجہ لارز لوکے راسموسن نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام ضروری ہے۔

انہوں نے ایکس پر لکھا: “وینیزویلا میں ڈرامائی پیش رفت جسے ہم قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں دوبارہ کشیدگی کم کرنے اور بات چیت کی طرف لوٹنا ہوگا۔”

اقوامِ متحدہ کے سربراہ

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترِس اپنے ترجمان کے مطابق وینیزویلا پر امریکی حملوں سے گہری تشویش میں ہیں اور کہا کہ یہ ایک “خطرناک مثال” قائم کرتا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفین ڈوجاریچ نے کہا: “سیکرٹری جنرل بار بار زور دیتے رہے ہیں کہ سب کو بین الاقوامی قانون، بشمول اقوامِ متحدہ کے منشور، کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے۔ وہ گہری تشویش میں ہیں کہ بین الاقوامی قانون کے قواعد کی پاسداری نہیں کی گئی۔”