مالی منڈیوں میں شدید مندی، ٹرمپ کی طرف سے ایران کو 48 گھنٹے کی آخری مہلت

اس کشیدگی نے اسٹاک مارکیٹس کو شدید نقصان پہنچایا، سیئول اور ٹوکیو — جو جنگ شروع ہونے سے قبل نمایاں کارکردگی دکھانے والے تھے — میں کساد بازاری کا رحجان عروج پر  رہا ،

By
یہ فائل فوٹو ٹوکیو کے ایک بروکریج کے باہر سے گزرتے ہوئے ایک خاتون کو دکھاتا ہے، جہاں ایک الیکٹرانک سکرین پر ایشیائی ممالک کے اسٹاک انڈیکس کی قیمتیں دکھائی جا رہی ہیں۔ / Reuters

ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ہرمز کے حوالے سے دھمکیوں کے تبادلے کے بعد اسٹاک مارکیٹس میں گراوٹ آئی اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں، جبکہ اسرائیل  کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ مزید  چند  ہفتے جاری رہ سکتی ہے۔

جبکہ یہ تنازعہ اب چوتھے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور ختم ہونے کی کوئی علامت نہیں دکھائی دیتی، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے دہائیوں کی بدترین عالمی توانائی بحران کی وارننگ دی اور کہا کہ اس بحران سے عالمی معیشت "سنگین  خطرے" میں ہے۔

دوسری جانب مبصرین نے بھی مہنگائی میں اضافے کا امکان اجاگر کیا ہے جو مرکزی بینکوں کو شرحِ سود بڑھانے پر مجبور کر سکتا ہے، اور کھاد کی ترسیل میں رکاوٹوں نے بھی عالمی غذائی تحفظ کے حوالے سے خدشات کو شہہ دی ہے۔

اس کشیدگی نے اسٹاک مارکیٹس کو شدید نقصان پہنچایا، سیئول اور ٹوکیو — جو جنگ شروع ہونے سے قبل نمایاں کارکردگی دکھانے والے تھے — میں کساد بازاری کا رحجان عروج پر  رہا ، ان کے انڈکس  بالترتیب تقریباً چھ اور پانچ فیصد تک گِر گئے۔

ہانگ کانگ تین فیصد سے زائد ، جبکہ شنگھائی، تائی پی اور منیلا  دو فیصد سے زائد کساد بازاری کا شکار رہء۔ سڈنی، سنگاپور اور ویلنٹن بھی نمایاں مندی میں تھے۔

جنوبی کوریا کا ون، ڈالر کے مقابلے میں 1,510 وون تک گر گیا، جو 2009 کے بعد اس کی کمزور ترین سطح ہے۔

تیل کی قیمتوں میں معمولی اضافہ ہوا، برینٹ تقریباً 112 ڈالر تک رہا جبکہ  ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ $100 کے تھوڑا نیچے تھا۔

"اس بحران کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا"

پیپر اسٹون کے کرس ویسٹن نے لکھا: "نتیجہ اور ٹرمپ کے آئندہ اقدامات، خاص طور پر کشیدگی کی صورت میں، ہفتے کے باقی حصے اور ماہ و سہ ماہی کے اختتام تک مارکیٹس کے لیے اہم نتائج رکھیں گے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ صدر ماضی میں متعدد معاملات پر نہایت نازک صورتحال سے پیچھے ہٹتے رہے ہیں، "انہوں نے جب مطالبات پورے نہیں ہوئے تو فوجی کارروائی کرنےکا متبادل بھی استعمال کیا ہے، اس لیے مارکیٹس ان کے ویک اینڈ پر Truth Social پر جاری کردہ پیغام کو سنجیدگی سے لیں گی۔"

"اگر ہم آخری وقت سے آگے بڑھ گئے تو توجہ جلد ہی ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے دائرہ کار اور ایران کے جواب کی نوعیت کی طرف منتقل ہو جائے گی، خاص طور پر امریکی اڈوں اور اس کے اتحادیوں کے حوالے سے۔"

دریں اثنا، بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتیح بیرول نے پیر کو کہا: "آج عالمی معیشت ایک بہت بڑا، بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہی ہے، اور میں پوری امید رکھتا ہوں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو جائے گا۔"

"اگر یہ بحران اسی رخ پر گامزن رہا تو اس کے اثرات سے کوئی ملک محفوظ نہیں رہے گا۔ لہٰذا عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے۔"

ان کے یہ بیانات ایسے وقت آئے جب مرکزی بینک تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگائی کے تیزی سے بڑھنے کی توقعات کے درمیان اپنی مالیاتی پالیسیاں دوبارہ دیکھ رہے ہیں، اور آسٹریلیا کے ریزرو بینک نے پچھلے ہفتے شرحِ سود بڑھائی۔

قرض لینے کی اعلی قیمتوں کے امکان نے غیر منافع بخش سونے کو نقصان پہنچایا ہے، جو مسلسل آٹھ روز سے گِر رہا ہے اور ابھی حال ہی میں 1983 کے بعد اپنی سب سے بدترین ہفتہ وار کمی دیکھ چکا ہے۔

پیر کو سونے کی قیمت تقریباً $4,350 کے آس پاس تھی، حالانکہ جنوری کے آخر میں اس نے تقریباً $5,600 کی ریکارڈ بلند ترین سطح بھی دیکھی تھی۔

امریکی صدر نے ہفتہ کو ایران کو 48 گھنٹے دیے کہ وہ خلیجِ ہرمز کو بحری نقل و حمل کے لیے دوبارہ کھولے ورنہ اسے اپنی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ ہوتے دیکھنا ہوگا۔

یہ الٹی میٹم اس اعلان کے ایک روز بعد آیا تھا جس میں امریکی رہنما نے کہا تھا کہ وہ فوجی حملوں کو 'کم کرنے' پر غور کر رہے ہیں، اس وقت یہ آبی راستہ — جس سے عالمی تیل اور گیس کا پانچواں حصہ گزرتا ہے — عملاً بند تھا۔

ایران نے تنبیہ کی کہ اگر ٹرمپ نے اپنی دھمکی پر عمل کیا تو ہرمز 'مکمل طور پر بند' کر دی جائیگی۔

پارلیمنٹ کے طاقتور اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دھمکی دی  ہےکہ اگر تہران کے اپنے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا تو وہ خطے بھر میں اہم انفراسٹرکچر کو ناقابلِ تلافی طور پر تباہ کر دیں گے، جس سے طویل عرصے کے لیے تیل کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔

تازہ کشیدگی کے دوران اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ لبنان میں حزبِ اللہ کے خلاف زمینی حملے کا دائرہ وسیع کرے گی، جبکہ ایک ترجمان نے کہا کہ ملک ایران اور حزبِ اللہ کے خلاف 'کئی ہفتوں' تک مزید لڑائی کا سامنا کر سکتا ہے۔