صومالیہ اور سعودی عرب کا بحرِ احمر کی سلامتی کو مضبوط کرنے کے لیے دفاعی معاہدہ

یہ معاہدہ باہمی عسکری اور دفاعی دلچسپی کے متعدد شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، تاہم اس کی مخصوص تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

By
یادداشت پر ریاض میں صومالی وزیر دفاع احمد معلم فیقی اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے دستخط کیے۔ / Others

صومالی وزارتِ دفاع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ صومالیہ اور سعودی عرب نے ایک دفاعی اور عسکری تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد سکیورٹی تعاون کو وسعت دینا اور بحرِ احمر کے وسیع تر خطے میں استحکام کو بڑھانا ہے۔

اس مفاہمتی یادداشت پر ریاض میں صومالیہ کے وزیرِ دفاع احمد معلّم فیقی اور ان کے سعودی ہم منصب شہزادہ خالد بن سلمان نے دستخط کیے۔

وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ باہمی عسکری اور دفاعی دلچسپی کے متعدد شعبوں کا احاطہ کرتا ہے، تاہم اس کی مخصوص تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

صومالی میڈیا نے اس معاہدے کو علاقائی سلامتی پر مرکوز ایک وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کے حصے کے طور پر بیان کیا، خصوصاً اس پس منظر میں کہ بحرِ احمر اور ہارن آف افریقہ کے اطراف میں بحری حفاظت اور جغرافیائی سیاسی مقابلے کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا ہے جب موغادیشو اور ریاض کے تعلقات گہرے ہو رہے ہیں، اور صومالیہ اپنے فضائی حدود کے تحفظ اور علاقائی سالمیت کے لیے اتحادی ممالک سے جدید تکنیکی معاونت، تربیت اور عسکری ساز و سامان حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔

علاقائی محرکات میں تبدیلیوں کے باعث صومالیہ کی سکیورٹی کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔ جن میں صومالیہ  سے علیحدگی اختیار کرنےوالے خطے صومالی لینڈ پر نئی توجہ بھی شامل ہے، جسے موغادیشو ملک کا ایک لازمی حصہ مانتا ہے۔