جاپانی وزیر اعظم تاکائچی نے فروری میں انتخابات کے لیے پارلیمنٹ کو تحلیل کر دیا
جاپان کی دو ایوانی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو زیریں ایوان میں کم از کم 233 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
کیودو خبر رساں ایجنسی کے مطابق، جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے زیریں ایوان کو تحلیل کر دیا ہے، جس سے 8 فروری کو ایک ہنگامی عام انتخابات کے انعقاد کا راستہ ہموار ہو گیا ہے ۔
تاکائچی کی کابینہ نے جمعہ کو 465 نشستوں پر مبنی ایوانِ نمائندگان کی تحلیل کی منظوری دے دی۔
جاپان کی دو ایوانی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے کسی جماعت یا اتحاد کو زیریں ایوان میں کم از کم 233 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔
اگرچہ وزرائے اعظم کو زیریں ایوان تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم باقاعدہ اجلاس کے آغاز پر 60 سال میں پہلی بار ایسا ہوا ہے۔
تحلیل کے ساتھ ہی انتخابات کے لیے مختصر انتخابی مہم کا دورانیہ عملاً شروع ہو گیا ہے۔
تاکائچی کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے عہدہ وزارت ِ عظمی اور اسی ماہ قائم ہونے والے حکومتی اتحاد کے لیے براہِ راست عوامی منظوری حاصل کرنا مقصود ہے۔
یہ اتحاد، جسے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی اور جاپان انوویشن پارٹی نے قائم کیا، زیریں ایوان میں معمولی اکثریت رکھتا ہے اور ہاؤس آف کاؤنسِلرز میں اقلیت میں ہے۔
تاہم، وزیر اعظم کے زیریں ایوان کے تحلیل ہونے کے محض 16 دن بعد انتخابات کرانے کے فیصلے پر تنقید کی گئی ہے کہ اس سے رائے دہندگان کو مقابلہ جاتی پالیسی تجاویز کا جائزہ لینے کے لیے بہت کم وقت ملے گا۔
اپوزیشن جماعتوں نے بھی مالی سال 2026 کے ابتدائی بجٹ کی پارلیمانی منظوری سے قبل الیکشن کرانے پر تنقید کی اور ان پر سیاست کو مقدم رکھنے کا الزام لگایا۔
اس سے قبل زیریں ایوان کے انتخابات اکتوبر 2024 میں کرائے گئے تھے۔