ترکیہ اگلے سال COP31 کی میزبانی کرتے ہوئے عالمی موسمیات کے موضوع پر اپنی پوزیشن مضبوط کرے گا

پیرس معاہدے کے نفاذ کا روڈ میپ بھی COP اجلاسوں میں بنتا ہے اور ان فیصلوں کا براہِ راست اثر ممالک کی موسمیاتی پالیسیوں پر پڑتا ہے۔

By
COP، یعنی فریقین کی کانفرنس، UNFCCC کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے اور یہ سالانہ منعقد ہوتا ہے۔

ترکیہ کی 2026 میں اقوامِ متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کی میزبانی، جسے عام طور پر COP31 کہا جاتا ہے، نہ صرف بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کرنے کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ موسمیاتی سفارت کاری میں واضح اور فیصلہ کن مقام قائم کرنے کے لیے بھی معنی رکھتی ہے۔

کانفرنس آف دی پارٹیز (COP) وہ سالانہ اجلاس ہے جس میں اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن برائے موسمیاتی تبدیلی کے 197 دستخط کنندہ ممالک شرکت کرتے ہیں تاکہ بین الاقوامی موسمیاتی پالیسیوں پر مذاکرات اور اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔

یہ اجلاس گرین ہاؤس گیسوں میں کمی کے اہداف، کاربن اخراج کے قواعد اور دیگر متعلقہ امور میں عالمی فیصلے  کرنے میں معاون ثابت ہوتا  ہے۔ پیرس معاہدے کے نفاذ کا روڈ میپ بھی COP اجلاسوں میں بنتا ہے اور ان فیصلوں کا براہِ راست اثر ممالک کی موسمیاتی پالیسیوں پر پڑتا ہے۔

اس پسِ منظر میں، انادولو  ایجنسی نے اس عمل کا پانچ سوالات کی شکل میں خلاصہ کیا ہے، جن میں COP کے طریقِ کار سے لے کر اس کی میزبانی کی ذمے داریوں تک موضوعات  شامل ہیں۔

COP کیا ہے؟

COP، یعنی کانفرنس آف دی پارٹیز، UNFCCC کا سب سے اعلیٰ فیصلہ ساز ادارہ ہے اور یہ سالانہ  اجلاس منعقد کرتا  ہے۔ کنونشن کے 197 رکن ممالک کے نمائندے یہاں پیش رفت کا جائزہ لیتے اور موسمیاتی تبدیلی کے عالمی جوابات پر مذاکرات کرتے ہیں، جن میں اخراج میں کمی کے اہداف، موافقت کی پالیسیاں، موسمیاتی مالیات، نقصان و تباہی سے نمٹنے کے میکانزم اور کاربن اخراج  شامل ہیں۔ پیرس معاہدے کے نفاذ کے قواعد بھی COP اجلاسوں میں طے کیے جاتے ہیں۔

کانفرنس کی میزبانی کے کیا فائدے ہیں؟

میزبانی ممالک کو سفارتی، اقتصادی اور ماحولیاتی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ COP کی میزبانی سے کوئی بھی ملک عالمی موسمیاتی پالیسی سازی کے مرکز میں آ جاتا ہے اور اسے نمایاں سفارتی مرئیّت ملتی ہے۔ ہزاروں کے بجائے ٹینز آف تھاؤزینڈز (دسیوں ہزار) میں مندوبین کی شرکت سیاحت، رہائش، نقل و حمل اور خدمات میں خاطرخواہ اقتصادی سرگرمی پیدا کرتی ہے۔

میزبان ملک میں سبز تبدیلی کے اقدامات بھی تیز ہوتے ہیں: قابلِ تجدید توانائی، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں کو زیادہ توجہ ملتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور موسمیاتی فنڈز کی دلچسپی بڑھتی ہے، اور میزبان ملک کے لیے صاف توانائی اور موسمیاتی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے بہتر مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں، میزبان شہر دو ہفتوں کے لیے عالمی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے اور اس کی بین الاقوامی شناخت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اب تک کن کن ممالک نے کانفرنس کی میزبانی کی ہے؟

1995 سے COP اجلاس مختلف براعظموں میں منعقد ہو چکے ہیں۔ قابلِ ذکر میزبان ممالک میں جرمنی (COP1، برلن)، جاپان (COP3، کیوٹو)، ڈنمارک (COP15، کوپن ہیگن)، فرانس (COP21، پیرس — جہاں پیرس معاہدہ اپنایا گیا)، برطانیہ (COP26، گلاسگو)، مصر (COP27، شرم الشیخ)، متحدہ عرب امارات (COP28، دبئی)، آذربائیجان (COP29، باکو) اور برازیل (COP30، بیلیم) شامل ہیں۔

ترکیہ اگلے سال پہلی بار COP کی میزبانی کرے گا۔

میزبانی کن ذمے داریوں کے ساتھ آتی ہے؟

COP کی میزبانی کے لیے وسیع تنظیمی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ ایک لاکھ سے زائد شرکاء کی میزبانی کے لیے بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہوتا ہے، جس میں بڑے اجلاس ہال، میڈیا سینٹر، ضمنی تقریبات کے مقامات اور حفاظتی انتظامات شامل ہیں۔

میزبان ملک کو اقوامِ متحدہ کے سیکیورٹی معیارات کی تعمیل یقینی بنانی ہوتی ہے اور پائیداری کے اقدامات نافذ کرنے ہوتے ہیں، جن میں صفر فضلہ کے اقدامات اور کاربن نیوٹرل تنظیم شامل ہیں۔ ریاستی اور حکومتی سربراہان کی شرکت کے باعث اعلیٰ سطحی سفارت کاری کی تیاری بھی ضروری ہوتی ہے، اور قبل از اجلاس ملاقاتوں اور تکنیکی کمیٹی سیشنز کی ہم آہنگی بھی درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا میزبان ملک صرف لاجسٹکس کا ذمہ دار نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی اس کی ذمے داری ہوتی ہے کہ عالمی مذاکرات ایک منظم اور سازگار ماحول میں جاری رہیں۔

ترکیہ کی میزبانی کا کیا مطلب ہے؟

ترکیہ نے COP31 کے لیے آسٹریلیا کے ساتھ مشترکہ امیدواری کے عمل میں حصہ لیا تھا۔ COP30 کی جنرل اسمبلی جو بیلیم، برازیل میں منعقد ہوئی، میں فیصلہ ہوا کہ اگلا COP اجلاس ترکیہ کی میزبانی میں ہوگا۔

تقریباً 200 ممالک کے نمائندے اگلے سال ترکی میں موسمیاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ پلان کے مطابق COP31 لیڈرز سمٹ استنبول میں منعقد کیا جائے گا جبکہ COP31 کی مرکزی کانفرنس انطالیہ میں ہوگی۔ اس طرح ترکیہ دو ہفتوں کے لیے عالمی موسمیاتی سفارت کاری کا مرکز بن جائے گا۔

یہ عمل موسمیاتی مالیات، صاف توانائی اور سبز ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور فنڈز کی توجہ ترکیہ کی طرف نمایاں طور پر بڑھائے گا۔ توقع کی جاتی ہے کہ ترکیہ کی موسمیاتی پالیسیاں، اخراج میں کمی کے اہداف اور سبز تبدیلی کے پروگرام دیگر ممالک کے لیے ایک نمونہ بن کر سامنے آئیں گے۔