اقوام متحدہ کی ایران میں مظاہروں کے دوران طاقت کا بےجا استعمال نہ کرنے کی اپیل

سیکرٹری جنرل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کی طرف سے تشدد اور طاقت کے بے جا  استعمال  کہ جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں، سے متعلقہ رپورٹس پر تشویش ہے۔

By
لندن میں قائم انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے گروپ نیٹ بلاکس نے اتوار کو بتایا کہ ایران 72 گھنٹوں سے زائد عرصے سے انٹرنیٹ سے منقطع ہے۔ / Reuters

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے خلاف "حتی الامکان  احتیاط" برتیں اور "غیر ضروری یا غیر متناسب" طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔

سیکرٹری جنرل کے  ترجمان اسٹیفن دوجارچ نے اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ "سیکرٹری جنرل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کی طرف سے تشدد اور طاقت کے بے جا  استعمال  کہ جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں، سے متعلقہ رپورٹس پر تشویش ہے ۔"

گوتریس نے اِس بات پر زور دیا کہ تمام ایرانی شہریوں کو بلا خوف و ڈر اپنی  "شکایات"  کو پُرامن طریقے سے پیش کرنے کا حق حاصل ہے،  اور کہا کہ اظہارِ رائے، انجمن سازی اور پرامن اجتماع کے حقوق جو بین الاقوامی قانون میں درج ہیں انہیں "مکمل  طور پر احترام اور تحفظ" حاصل ہونا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے ملک میں معلومات تک رسائی کو ممکن بنانے، بشمول مواصلات کی بحالی کے اقدامات کا بھی مطالبہ کیا۔

لندن میں قائم انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ NetBlocks کا کہنا ہے  ایران میں  قومی انٹرنیٹ  کی بندش چار دنوں سے جاری ہے تو  گزشتہ  72 گھنٹوں سے زائد سے آن لائن سروسز بند ہیں۔

باور رہے کہ یہ احتجاجی مظاہرے  28 دسمبر کو ایرانی منڈی  میں ایرانی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی اور معاشی  حالات کی خرابی کے خلاف پھوٹ پڑے  اور بعد ازاں کئی شہروں تک پھیل گئے۔

امریکہ میں قائم حقوقی گروپ ہرانہ نے رپورٹ کیا ہے کہ حالیہ مظاہروں میں  490 مظاہرین اور 48 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ 10,600 سے زائد افراد گرفتار کیے گئے ہیں، تاہم اس حوالے سے  کوئی  سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔