سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
ترکیہ۔سعودی عرب دو طرفہ تجارتی حجم مختصر مدت میں 10 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے: وزیر تجارت عمر بولات
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان کے دورہ سعودی عرب سے قبل ریاض میں سعودی عرب۔ ترکیہ سرمایہ کاری فورم کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔
الاخباریہ ٹی وی کے مطابق افتتاحی اجلاس سے خطاب میں سعودی عرب کے وزیرِ سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح نے منگل کے روز ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے کہا ہےکہ "اس دورے کا مقصد دو طرفہ تعلقات کو شراکت داری کے ایک بلند تر درجے تک پہنچانا ہے۔ دونوں فریق مضبوط تعلقات سے گہرے اسٹریٹجک رشتے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں"۔
خالد بن عبدالعزیز الفالح نے کہا ہےکہ فورم میں 200 سے زائد کمپنیوں پر مشتمل ایک ترک کاروباری وفد شریک ہے۔ یہ وفد سعودی عرب کے ساتھ تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں ترک کمپنیوں کے چند علاقائی دفاتر کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ "ترک فریق کی بھرپور شرکت دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک ساجھے داری کی گہرائی کی عکاسی کرتی اور اقتصادی تعاون اور نجی شعبے کے اہم کردار کو اجاگر کرتی ہے"۔
10 بلین ڈالر تجارتی حجم کا ہدف
فورم سے خطاب میں ترکیہ کے وزیر تجارت عمر بولات نے کہا ہے کہ ترکیہ۔سعودی عرب دو طرفہ تجارتی حجم مختصر مدت میں 10 بلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
انہوں نے کہا ہےکہ صدر اردوعان کا یہ دورہ وزارتوں اور کاروباری تنظیموں کے درمیان متعدد معاہدوں کا سبب بنے گا۔یہ معاہدے ترکیہ۔سعودی عرب تعلقات کو بہت اعلیٰ سطح تک پہنچائیں گے اور اقتصادی روابط کو مضبوط کریں گے۔
بولات نے کہا ہےکہ "دونوں رہنماؤں نے 10 بلین ڈالر کا قلیل مدتی اور 30 بلین ڈالر کا طویل مدتی تجارتی ہدف مقرر کیا ہے۔ امید ہے کہ 2026 کے دوران ہم اپنا 10 بلین ڈالر کا ہدف حاصل کرلیں گے"۔
انہوں نے شرکاء کو یاد دلایا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تجارتی حجم پہلے ہی 8.6 بلین ڈالر سےبڑھ چکا ہے۔