دنیا
3 منٹ پڑھنے
بنگلہ دیش میں عام انتخابات
انتخابی امیدواروں کی رائے دہندگان سے اپیل: "اخلاقی قیادت کو منتخب کریں"
بنگلہ دیش میں عام انتخابات
ڈھاکہ، بنگلہ دیش میں 9 فروری 2026 کو منعقدہ ایک انتخابی ریلی میں بی این پی کے حامی نعرے لگا رہے ہیں، جس میں پارٹی چیئرمین طارق رحمان نے شرکت کی۔ / Reuters
10 فروری 2026

بنگلہ دیش میں اہم سیاسی شخصیات اور وز رتِ اعظمیٰ  کے امیدواروں نے عام انتخابات  کے لئے مہم چلانے کی سرکاری مہلت کے اختتام سے قبل   بروز سوموار  قوم سے آخری خطاب کئے ہیں۔

ملک میں جولائی 2024 میں شیخ حسینہ واجد کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات بروز جمعرات منعقد ہو رہے ہیں۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کی سابق اتحادی ' بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی پارٹی' انتخابات میں دو اہم اتحادوں کی قیادت کر رہی ہیں۔ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت کی قیادت کرنے والے طلبہ کی  قائم کردہ 'نیشنل سٹیزن پارٹی' (این سی پی)اپنی زیرِ قیادت اتحاد میں شامل ہے۔

چند سروے رپورٹوں  کے مطابق یہ انتخابات کسی ایک  اتحاد کے لیے آسان فتح نہیں سمجھے جا رہے کیونکہ مقابلہ سخت ہے اور انتخابات پر 'زیڈ نسل' کے نام سے پہچانے جانے والے نوجوان ووٹروں کا قابلِ ذکر اثر دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہ نوجوان  بدعنوانی سے پاک اور جوابدہ حکومت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

پیر کی رات ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں بی این پی کے چیئرمین اور وزارتِ اعظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان نے  اپنے انتخابی منشور  پر بات کرتے ہوئے ملکی خودمختاری کے تحفظ اور جامعیت کے اصول پر  معاشرے کی تعمیر کا وعدہ کیا ہے۔

سابق وزیرِ اعظم خالده ضیا کے صاحبزادے'طارق رحمان' نے مزید  کہا ہے کہ "کامیابی  کی صورت میں  بی این پی کی حکومت ملک میں بدعنوانی پر قابو پانے  کے لئے ہر ممکن سختی اپنائے گی اور قانون کی بالادستی  بحال کی جائے گی"۔

بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے اپنے خطاب میں ہم وطنوں پر زور دیا ہے کہ  ایک نئے بنگلہ دیش کی تعمیر کے لئے اخلاقی سوچ اختیار کی جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جولائی 2024 کی بغاوت امتیازیت کے خاتمے، سیاسی رجحان میں تبدیلی اور خاندانی سیاسی  نظام کے تسلط سے آزادی کے لیے کی گئی تھی۔

انتخابات کے دن بنگلہ دیش میں چار اہم اصلاحاتی پیکجوں پر ریفرنڈم بھی کرائے جائیں گے۔

بنگلہ دیش کے مشیر اعلیٰ محمد یونس نے انتخابات کو ملک کے لیے فیصلہ کن قرار دیا اور کہا ہے کہ  "اگر ریفرنڈم میں 'مثبت' ووٹ غالب رہے تو  ملک کی تقدیر  بدل جائے گا اور بدانتظامی کا خاتمہ ہو جائے گا"۔  

واضح رہے کہ جولائی 2024 کی عوامی بغاوت نے شیخ حسینہ کے پندرہ سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا تھا۔ بغاوت کے دوران تقریباً 1,400 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوگئے تھے۔

دریافت کیجیے
چین میں بڑے سیاسی اجلاس شروع ہوگئے
امریکہ: 9,000 امریکی شہری مشرق وسطی سے نکل گئے
آبنائے ہرمز میں جہازوں کی حفاظت ہم کریں گے: ٹرمپ
امریکی-اسرائیلی جنگ ایران پر امریکی فوجی تعمیر میں آخری چند دہائیوں میں سب سے بڑی ہے: سی ای این ٹی سی او ایم
جنوبی کوریائی بحریہ کے افسر کو مارشل لا کی ناکام کوشش کے الزام میں معطل کر دیا گیا
ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 4 دنوں میں امریکی نقصان 2 بلین ڈالر
پاکستان کا افغان چوکیوں پر حملہ،متعدد افغان فوجی ہلاک
ترکیہ کی فضائی کمپنیوں  نے 6 مارچ تک تمام پروازیں معطل کر دیں
ہم، ایرانی شہریوں کو درپیش تکالیف کی مذّمت اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں: اردوعان
ٹرمپ کا جنونی پن دنیا کو تیسری عالمی جنگ میں جھونک دےگا:روس
ایران میں امریکی فوجی آپریشن کے بعد سے ابتک 6 امریکی عسکری اہلکار ہلاک
اسرائیل نے غزہ میں امداد کی فراہمی معطل کر دی:اقوام متحدہ
آبنائے ہرمز سے جو جہاز گزرے گا وہ تباہ ہوگا:ایران
خامنہ آئی کی موت سےحالات بگڑ گئے،شمالی علاقہ جات میں کرفیو نافذ
کویت میں امریکی F-15طیارہ گر گیا،پائلٹ محفوظ