ہم، ایرانی شہریوں کو درپیش تکالیف کی مذّمت اور جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں: اردوعان

ترکیہ کو ایران میں عام شہریوں اور بے گناہ بچوں کو تنازعے کا بھاری بدل چُکاتے دیکھ کر گہرا افسوس ہو رہا ہے: صدر رجب طیب اردوعان

By
اردوغان اے کے پارٹی کانگریس سینٹر میں افطار کی تقریب کے دوران تقریر کر رہے ہیں۔ / Anadolu Agency

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوعان نے ایران میں شہریوں کی مشکلات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور کہا  ہے کہ ترکیہ بحالی امن میں مدد اور فائر بندی کے حصول کے لیے اپنی سفارتی کوششیں تیز کردے گا۔

اردوعان نے بروز سومواردارالحکومت انقرہ میں ایک تقریب  سے خطاب میں کہا  ہے کہ "ہم ایرانی عوام کے درد میں شریک ہیں اور  ہمیں ان کے مصائب پر گہرا صدمہ پہنچ رہا ہے۔ اس جنگ کا خمیازہ  معصوم بچے اور شہری بھگت رہے ہیں"۔

اردوعان نے کہا ہے کہ" ترکیہ، فائر بندی کے قیام  اور خطے میں امن و امان کی بحالی تک سفارتی روابط پوری رفتار کے ساتھ  جاری  رکھے گا۔ہم امن کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ خونریزی رک جائے، آنسو تھم جائیں اور ہمارا خطہ آخرکار وہ دیرپا امن حاصل کرلے جس کا  ایک طویل عرصے سے انتظار ہے"۔

صدر  اردوعان نے یہ بات زور دے کر کہی  ہےکہ ترکیہ کی اولین ترجیح فائر بندی کو یقینی بنانا اور گفت و شنید کے دروازے کھولنا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ "اگر ضروری مداخلت نہ کی گئی تو یہ تنازعہ خطے اور عالمی سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بنتا رہے گا"۔

صدر رجب طیب اردوعان نے کہا ہے کہ "کوئی بھی اُس  معاشی و جیوپولیٹیکل غیر یقینی صورتِ حال کو برداشت نہیں کر سکے گا  جو اِس جنگ کے نتیجے میں   پیدا  ہو گی   لہٰذا اس آگ کو  مزید پھیلنے سے پہلے بجھانا ضروری ہے"۔

نیٹو کے سربراہ کے ساتھ فون کال

اردوعان نے ایران پر حملوں اور بعد ازاں ہونے والی جھڑپوں کے بعد نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات  کی ہے۔

ترکیہ صدارتی محکمہ  مواصلات و اطلاعات  کے جاری کردہ بیان کے مطابق "اردوعان نے روٹے سے کہا ہے  کہ ترکیہ، علاقے میں تنازعے پر  محتاط نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے  اس بات پر زور دیا ہے کہ پائیدار امن کے حصول کے لیے سفارتکاری کو موقع دینا ضروری ہے"۔

اردوعان نے کہا ہے کہ جولائی میں انقرہ میں منعقد ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کی تیاری جاری ہے اور ترکیہ اس اجلاس کی میزبانی اس کی اہمیت کے مطابق کرے گا"۔

روٹے نے یہ بھی  کہا  ہےکہ نیٹو  اپنے اتحادیوں کی سلامتی کی یقین دہانی میں 360 ڈگری نقطۂ نگاہ سے  کردار ادا کرنا جاری رکھے گا"۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے بروز ہفتہ ایران کے خلاف ، بشمول سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کئی اعلیٰ ایرانی شخصیات کی ہلاکت کا سبب بننے والے،   ایک بڑے حملے کا آغاز کیا تھا۔

تہران نے خلیجی ممالک میں امریکی اڈّوں  کو نشانہ بناکر اور  ڈرون اور میزائل حملے کر کے  جوابی کارروائی کی۔ اس جوابی کاروائی میں  6 امریکی فوجی  ہلاک اور چار شدید زخمی ہو گئے تھے۔

ایران ہلالِ احمر کے جاری کردہ بیان کے مطابق  ہفتے سے تاحال  امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 555 تک پہنچ گئی ہے۔