ترکیہ کی فضائی کمپنیوں نے 6 مارچ تک تمام پروازیں معطل کر دیں

ترکیہ کی فضائی کمپنیوں نے 6 مارچ تک ایران، عراق، شام، لبنان، اور اردن کے لیے تمام پروازوں کو معطل کر دیا ہے

By
ترک ایئرلائنز تمام ممنوعہ فضائی حدود سے بچنے کے لیے اپنی جاری پروازوں کا رخ موڑ رہی ہیں۔ / Reuters

ترکیہ کی فضائی کمپنیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان شدّت اختیار کرتی جنگ کے باعث ایران، عراق، شام، لبنان اور اردن کے لیے تمام پروازیں 6 مارچ تک منسوخ کر دی ہیں۔

ترکیہ کے وزیر رسل رسائل و انفراسٹرکچر' عبدالقادر اورال اوغلو 'نے کہا ہے کہ حکام صورتحال پر بغور نگاہ رکھے ہوئے  ہیں اور فضائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے احتیاطی اقدامات کر لئے  گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا  ہےکہ "فضائی سفروں کے لیے جاری کردہ نوٹس تاحال  نافذِالعمل ہیں اور ایران، اسرائیل، عراق، قطر، بحرین، کویت، اردن اور جنوبی شام کے اوپر فضائی حدود باضابطہ طور پر بند ہیں۔

عمان، لبنان اور سعودی عرب کے بعض حصوں کے لئے سول فضائی نقل و حمل جاری ہے۔ متحدہ عرب امارات میں ہنگامی صورتحال کے تحت اختیار کئے گئے حفاظتی اقدامات کےباعث   فضائی ٹریفک کے متبادل راستوں کی تشکیل  جاری ہے۔ توقع ہے کہ  'ایمرٹس' اور 'اتحاد ایئر ویز' کی پروازیں پیر کو بحال کرنے  پروگرام بنایا گیا ہے" ۔

اورال اوغلو نے کہا ہے  کہ     اس وقت  ٹرکش ایئر لائن اور پیگاسوس ایئر لائن کا ایک ایک طیارہ  تہران کے امام خمینی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کھڑا ہے۔

منسوخیاں جاری رہ سکتی ہیں

ترکیہ کی سستی فضائی کمپنیوں میں سے AJet کا  کوئی طیارہ علاقائی سرحدوں میں محصور نہیں ہے۔  

  عراق کو کرائے پر دیا گیا Tailwind Airlines کا ایک طیارہ عراق میں ہے ۔

محدود فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کے لئے ترک فضائی  کمپنیاں  فعال پروازوں کا رُخ متبادل گزرگاہوں  کی طرف موڑ رہی ہیں ۔

وزیر نے کہا ہے کہ علاقے میں جاری خطرات کے پیشِ نظر THY، AJet، Pegasus اور SunExpress کی ایران، عراق، شام، لبنان اور اردن کے لیے پروازیں 6 مارچ تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اُنہوں نے کہا ہے  کہ Pegasus Airlines نے ایران کے لیے پروازیں 12 مارچ تک اور  قطر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے لیے طے شدہ  تمام پروازیں 3 مارچ تک منسوخ کر دی گئی ہیں۔

اُنہوں نے مزید کہا ہے کہ فیصلے یومیہ جائزوں کی بنیاد پر کئے جا رہے ہیں اور اگر موجودہ حالات میں بہتری نہ آئی تو پروازوں کی منسوخیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری رہ سکتی ہیں۔