سری لنکا میں سائیکلون ڈیٹواہ کے بعد 123 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ

مقامی میڈیا کے مطابق کندی ضلع میں 51 افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ 67 افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ بدُلا ضلع میں 35 ہلاکتیں تصدیق شدہ ہیں اور 27 افراد لاپتہ ہیں۔

By
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسانائیکے نے امدادی کارروائیاں کرنے کے لیے 20,000 سے زائد فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔

مقامی میڈیا نے ہفتہ کو رپورٹ کیا کہ طوفان ڈِٹوا کے بعد سری لنکا بھر میں ہونے والی شدید سیلابی صورتحال اور لینڈ سلائیڈنگ  کے نتیجے میں کم از کم 123 افراد ہلاک اور 130 دیگر لاپتہ ہو گئے ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق کندی ضلع میں 51 افراد کی ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں جبکہ 67 افراد کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ بدُلا ضلع میں 35 ہلاکتیں تصدیق شدہ ہیں اور 27 افراد لاپتہ ہیں۔

دوسرے اضلاع بھی متاثر ہوئے ہیں: کیگلے میں 9، میٹیلے میں 8، نوارا ایلیا میں 6 اور امپارا میں 5 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔

طوفان ڈِٹوا، جو 26 نومبر کو سری لنکا میں آیا، 102,877 خاندانوں کے 373,428 افراد کو متاثر کر چکا ہے، جبکہ بحران کے جواب میں 43,925 افراد کو 488 عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

غیر معمولی موسمی حالات 17 نومبر سے جزیرے کو متاثر کر رہے ہیں  جس میں شدید بارشیں، سیلابی پانی میں اضافہ اور لرزش اراضی  شامل ہیں۔

ٴ انتظامیہ نے کئی بڑی ندی نالوں کے لیے ہائی رسک سیلابی انتباہ جاری کیے ہیں اور  ارد گرد کے نشیبی علاقوں میں مقیم افراد کو  فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ڈیلی مرر کے مطابق سری لنکا کے صدر انورا کومارا دِسانائے نے ریسکیو آپریشنز کے لیے 20,000 سے زائد فوجی اہلکار تعینات کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

ابتدائی طور پر حکام نے آٹھ اونچے خطرے والے اضلاع کے لیے ریڈ الرٹ لینڈ سلائیڈ انتباہ جاری کیا تھا، جس میں ڈھلوانی علاقوں، پہاڑی بستیوں اور خطرے سے دوچار زونز کو شدید خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

آل انڈیا ریڈیو کے مطابق ڈِٹوا ممکنہ طور پر اتوار کی صبح تک بھارت کے جنوبی ساحل، تامل ناڈو ریاست کے قریب گزرے گا، جس سے کچھ خطوں میں پروازوں کی خدمات اور تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔