یوکرینی صدر زیلینسکی ترک صدر سے سلامتی مذاکرات کے لیے استنبول پہنچ گئے

یہ ملاقات آرتھوڈوکس عید سے ایک ہفتہ قبل ہو رہی ہے، جو یوکرین اور روس دونوں میں 12 اپریل کو منائی جاتی ہے۔

By
اس فائل تصویر میں، زیلنسکی 8 مارچ 2024 کو استنبول، ترکیہ میں ترک صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کے لیے پہنچے۔ / AA

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ سکیورٹی مذاکرات کرنے کے لیے استنبول پہنچ گئے۔

یہ دورہ صدر  ایردوان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات چیت کے قلیل مدت بعد  سر انجام پا رہا ہے۔ انہوں نے کیف پر الزام عائد کیا  ہے کہ وہ روس اور ترکیہ کے درمیان اس گیس پائپ لائن کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے جو کئی یورپی ممالک کو بھی گیس فراہم کرتی ہے۔

زیلنسکی نے ایکس پر کہا: "استنبول پہنچ گیا ہوں، جہاں اہم ملاقاتیں طے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کی تیاری کی گئی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا: "ہم اپنی شراکت داری کو مضبوط بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کی زندگیاں حقیقی معنوں میں محفوظ رہیں، استحکام کو فروغ ملے اور یورپ کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں بھی سکیورٹی کی ضمانت دی جا سکے۔"

جنگ بندی کی کوشش

زیلنسکی ایکومی نیکل پیٹریارک بارتھولو میوس سے بھی ملاقات کریں گے، جو زیادہ تر عیسائی آرتھوڈوکس گرجا گھروں کے روحانی  پیشوا ہیں۔

یہ ملاقات آرتھوڈوکس عید سے ایک ہفتہ قبل ہو رہی ہے، جو یوکرین اور روس دونوں میں 12 اپریل کو منائی جاتی ہے۔

کیف آرتھوڈوکس عیدِ پاک کے دوران ایسی جنگ بندی کے لیے زور دے رہا ہے جس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کو روکنا شامل ہو۔

روس، جو مختصر جنگ بندی کے بجائے ایک دائمی سمجھوتہ چاہتا ہے، نے کہا کہ اس نے کیف کی جانب سے کوئی "واضح طور پر مرتب شدہ " تجاویز نہیں دیکھیں۔

یوکرین نے چار سال سے زائد جاری اس جنگ کے دوران روسی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملے کیے ہیں تاکہ ماسکو کی جارحیت کو مالی طور پر ممکن بنانے کی صلاحیت کو کم کیا جا سکے۔

2022 میں جنگ کے آغاز سے اب تک روسی حملوں نے یوکرینی توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر لاکھوں لوگوں کی بجلی اور حرارت منقطع کر دی ہے۔