ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
عبوری رہبری کونسل نے کل اتفاق کیا ہے کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک پر حملے بند کر دے گا اور صرف اس صورت میں میزائل چھوڑے گا اگر ان ممالک سے ایران پر حملہ ہوا۔
ایران جنگ اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو رہی ہے توایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کو کہا کہ اُن کا ملک کبھی بھی اسرائیل اور امریکہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔
پزشکیان نے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ایران کے دشمن "ایرانی قوم کی بلاشرط ہتھیار ڈال دینے کی خواہش کو اپنی قبر تک لے جائیں"۔
28فروری کو اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر حملے کیے، جن میں رہبر اعلیٰ علی خامنہای ہلاک ہو گئے اور ایک علاقائی تنازعہ بھڑک اٹھا۔
اس کے بعد سے ایران نے اسرائیل اور خطے کے ممالک میں امریکی مفادات پر، خاص طور پر خلیج میں، میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جواب دیا ہے۔
پزشکیان اُن تین ارکان میں سے ایک ہیں جو عارضی رہنمائی کونسل کی تشکیل میں شامل ہیں اور خامنہای کی ہلاکت کے بعد سے ایران کی سربراہی کر رہی ہے۔
خطاب کے دوران پزشکیان نے خطے میں ایران کے حملوں پر ہمسایہ ممالک سے معذرت کی اور کہا کہ جب تک ان ملکوں سے براہِ راست حملے نہیں ہوتے انہیں ہدف نہیں بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ "میں ذاتی طور پر اور ایران کی جانب سے ایران کے حملوں کا نشانہ بننے والے ہمسایہ ممالک سے معافی کا طلبگار ہوں۔"
"عبوری رہبری کونسل نے کل اتفاق کیا ہے کہ مزید ہمسایہ ممالک پر حملے نہیں کیے جائیں گے اور جب تک ان ممالک کی طرف سے ایران پر کوئی حملہ شروع نہ ہو، کوئی میزائل فائر نہیں کیے جائیں گے۔"