فضائی حملے ایران میں حکومت نہیں گِرا سکیں گے: فیدان
فوجی کاروائی یا فضائی حملے ایران میں حکومت نہیں گِرا سکیں گے: وزیرِ خارجہ خاقان فیدان
ترکیہ کے وزیرِ خارجہ خاقان فیدان نے ایران میں بذریعہ فوجی کاروائی حکومت کی تبدیلی کے دعووں کو مسترد کیا اور کہا ہے کہ فضائی حملے بھی ایران میں حکومت نہیں گِرا سکیں گے۔
بروز سوموار 'سی این این ترک' کے لئےانٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ ہدف بنائے جانے کی صورت میں ایران میں حکومت گِرے گی یا نہیں؟ فیدان نے کہا ہے کہ "نہیں، نہیں گرے گی"۔
انہوں نے کہا ہے کہ "میں ایران میں بعض مخصوص منظرناموں پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ فضائی حملے یا کسی اور چیز سے انتظامیہ تبدیل نہیں ہوگی۔ یہ ایک خام خیالی ہے"۔
فیدان نے مزید کہا ہے کہ عسکری کارروائی سے ریاست کمزور کی جاسکتی ہے لیکن یہ اقتدار کی تبدیلی کا سبب نہیں بن سکے گی۔جو ہو سکتا ہے وہ یہ کہ حکومت اور نظام عوام کو خدمات فراہم نہ کر سکنے کی حد تک کمزور ہو جائے ۔ ایسی صورت میں شائد موجودہ نظام زیادہ سخت فیصلے کرے اور اپنی اصلاح کو ترجیح دے۔یعنی اس شکل میں سوچا جا سکتا ہے"۔
انقرہ سے سفارتی گرما گرمی
وزیر خارجہ خاقان فیدان نے یہ بیانات ایران اور امریکہ کے درمیان، تقریباً آٹھ ماہ کے تعطل کے بعد بروز جمعہ عمان میں دوبارہ شروع ہونے والے، مذاکرات کے اگلے دور کی تیاریوں کے دوران جاری کئے ہیں۔
ایسے میں کہ جب ایران سے متعلق کشیدگیوں نے بین الاقوامی ایجنڈے پر غلبہ حاصل کر رکھا ہے فیدان نے خبردار کیا ہے کہ "خطہ ایک اور جنگ کا متحمل نہیں ہے۔ صدر رجب طیب اردوعان بھی اس مسئلے پر انتہائی حساسیت کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ لہذا، ہم ممکنہ جنگ کو روکنے کے لیے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرنا چاہتے ہیں"۔
فیدان نے کہا ہے کہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے انہیں مذاکرات کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اور انقرہ بھی امریکی فریق کے ساتھ رابطے میں ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ صورتحال کو فوراً حل کرنا مشکل ہے لیکن پھر بھی فریقین کے درمیان مذاکرات جاری رکھنے کے موضوع پر واضح رضامندی پائی جاتی ہے۔
فیدان نے جنگ کے خطرے کو ٹالنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا ہےکہ "زیادہ تخلیقی حل کی اپیلیں بتدریج مقبولیت حاصل کر رہی ہیں ۔ مذاکرات کا دروازہ کھُل گیا ہے اور فی الحال جنگ کا بظاہر کوئی فوری خطرہ نہیں ہے"۔