اسرائیل، امریکی حمایت یافتہ اقوام متحدہ کے بل سے ریاستِ فلسطین کی حیثیت کو ہٹانے کے درپے
یہ کوششیں اُس آخری لمحے کی مہم کا حصہ ہیں جس میں نیتن یاہو کی حکومت طویل عرصے سے مخالف ہونے والے نکات کو متن سے نکلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل نے امریکی منصوبے کردہ ایک مسودہ قرار داد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطینی خودارادیت اور ریاست کے حوالوں کو کمزور یا ختم کرنے کے لیے امریکہ پر دباؤ ڈال رکھا ہے ۔
یہ کوششیں اُس آخری لمحے کی مہم کا حصہ ہیں جس میں نیتن یاہو کی حکومت طویل عرصے سے مخالف ہونے والے نکات کو متن سے نکلوانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے KAN کے مطابق نیتن یاہو کے معاونین اور وزارتِ خارجہ کے سینئر حکام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے اور عرب حکومتوں کے ساتھ بھی گہری گفت و شنید میں مصروف رہے ہیں تاکہ ایسی عبارت نرم کی جائے یا حذف کر دی جائے جو "خودارادیت اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام" کا ذکر کرتی ہو۔
امریکہ کے تیار کردہ مسودے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان 10 اکتوبر سے برقرار جنگ بندی کے تحت غزہ میں ایک کثیر القومی فورس کی تعیناتی کی تائید کی گئی ہے۔
یہ مسودہ یہ بھی کہتا ہے کہ "شرائط آخرکار فلسطینی خودارادیت اور ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتبار راستہ ممکن بنا سکتی ہیں،" بشرط یہ کہ فلسطینی اتھارٹی کے اندر اصلاحات ہوں۔
ایک خطرناک مسودہ
نیتن یاہو کی حکومت — جو کھلے الفاظ میں ریاستِ فلسطین کو مسترد کرتی ہے — کے لیے ایسی عبارت کا شامل ہونا ایک سنگین سیاسی مشکل سمجھا جاتا ہے، حالانکہ اسرائیلی حکام نجی طور پر دلیل دیتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی واشنگٹن کی اصلاحاتی شرائط پوری کرنے کا امکان کم ہے۔
تاہم KAN نے رپورٹ کیا کہ سینئر اسرائیلی شخصیات اس مسودے کو "خطرناک" قرار دیتی ہیں اور خبردار کرتی ہیں کہ یہ اس قسم کی سفارتی لہر پیدا کر سکتا ہے جس کے نتائج کا اسرائیل طویل عرصے سے مخالف رہا ہے۔
نشریاتی ادارے نے یہ مخصوص نہیں بتایا کہ اسرائیل کون سی عبارت بدلوانا یا ہٹوانا چاہتا ہے۔
مسودے کے مطابق، اس کثیر القومی فورس کا کام اسرائیل اور مصر کے ساتھ تال میل کر کے جنگ کے خاتمے کے بعد غزہ کو مستحکم کرنا، حماس کے قبضے سے عبور کی منتقلی کی نگرانی کرنا، اور اسرائیلی افواج کے انخلا کو آسان بنانا ہوگا۔ منصوبہ ایک نئے ڈھانچے پر مرتب ہے اور تربیت یافتہ فلسطینی پولیس فورس کا تصور کرتا ہے جو سرحدی اور اندرونی سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھالے گی۔
اسرائیلی رہنما فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف
اتوار کو اسرائیلی وزراء کا مؤقف اس طرف مزید سخت ہوا جب اسرائیلی وزیر ِ دفاع کَٹز اور وزیرِ خارجہ گڈیون سعار نے فاشسٹ طرز کے وزراء بیزالیل سموٹریچ اور ایتمار بن گور کے ساتھ مل کر اس تصور کو واضح طور پر مسترد کیا۔
نیتن یاہو نے سلامتی کونسل کے متوقع ووٹ سے چند گھنٹے قبل اپنا موقف دہرایا۔ انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں کہا، "میری فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف مزاحمت تبدیل نہیں ہوئی۔ یہ قائم و دائم ہے۔" انہوں نے وعدہ کیا کہ غزہ "غیر مسلح" بنایا جائے گا اور حماس "مکمل طور پر ختم" کی جائے گی۔
انہوں نے اندرونی و بیرونی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا، "میں نے برسوں سے ان کوششوں کا مقابلہ کیا ہے۔"
فلسطین کی بڑھتی ہوئی پہچان
یہ سفارتی ٹکراؤ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بین الاقوامی سطح پر فلسطینی ریاست کی حمایت بڑھتی جا رہی ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ کے مطابق ستمبر میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں متعدد ملکوں نے فلسطین کو تسلیم کیا، جس سے UN کے 193 ممبر ممالک میں سے تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد 160 ہو گئی۔
غزہ کے حفظان ِصحت حکام کے مطابق اسرائیل نے اکتوبر 2023 سے اب تک غزہ میں 69,000 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے — جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں — ایک ایسی عسکری مہم میں جس نے علاقے کو کھنڈر میں بدل دیا ہے۔
اسرائیل 1967 میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقوں کے علاوہ شام اور لبنان کے بعض علاقوں پر بھی قابض ہے اور ایک خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف برقرار ہے۔