جنگ بحیرہ اسود تک پھیل سکتی ہے، چورنومورسک بندرگاہ پر حملے کے بارے میں ترکیہ کا اظہارِ تشویش

یہ واقعہ ہمارے پہلے سے بیان کردہ خدشات کی حیثیت کو بے نقاب کرتا ہے جو بحری سلامتی اورسیر و سفر کی آزادی کے بارے میں تھے، دفترِ خارجہ

By
چرنومورسک قصبے میں روسی میزائل حملے کے دوران نشانہ بننے والے ایک شہری بحری جہاز کے مقام پر فائر فائٹرز امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ / Reuters

ترکیہ نے یوکرین کی چورنومورسک بندرگاہ پر روسی حملے میں ایک ترک کمپنی کے ذریعے چلنے والے غیر ملکی پرچم بردار  جہاز کو نقصان پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے نے ایک بار پھر سابقہ ​​انتباہات کی تصدیق کی ہے کہ جنگ بحیرہ اسود تک پھیل سکتی ہے۔

دفترِ خارجہ نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ"یہ واقعہ ہمارے پہلے سے بیان کردہ خدشات کی حیثیت کو بے نقاب کرتا ہے جو بحری سلامتی اورسیر و سفر کی آزادی کے بارے میں تھے، کیونکہ ہمارے خطے میں جنگ بحیرہ اسود  تک پھیل رہی ہے۔"

وزارت نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز پر سوار عملے اور ٹرک ڈرائیوروں کو نکال لیا گیا، کسی ترک شہری کو نقصان نہیں پہنچا، اودیسا میں  ترک قونصل جنرل صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے اور شہریوں کو ضروری مدد فراہم کر رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا، "اس موقع پر ہم ایک بار پھر زور دیتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کو فوری طور پر ختم کرنا اہم ہے۔"

بحری سلامتی

وزارت نے مزید کہا کہ ہم بحیرہ اسود میں کشیدگی میں اضافے کا سد باب کرنے کے لیے  نیویگیشن کی سلامتی اور فریقین کے توانائی و بندرگاہی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں کو معطل کرنے کے لیے ضابطے کی ضرورت کا اعادہ کرتے ہیں۔

یوکرینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق روس نے اودیسا علاقے پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں متعدد مقامات پر دھماکے ہوئے اور فضائی دفاعی کارروائی متحرک ہوئی۔

مقامی نیوز سروس ڈمسکایا نے علاقے میں موجود نمائندوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ بحیرہ اسود  سے آنے والے اہداف کا پتا چلنے کے بعد چر نومورسک بندرگاہ اور اودیسا کے کئی اضلاع میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

تشویشناک  کشیدگی

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ ماسکو یوکرینی بندرگاہوں پر حملوں کو تیز کرے گا اور اگر روسی ٹینکروں پر حملے جاری رہے تو وہ یوکرین کی حمایت کرنے والے ممالک کے بحری جہازوں کو ہدف بنانے پر غور کر سکتا ہے۔

یہ انتباہ  روس سے منسلک تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے کے بعد آئیں، جن میں ایک ہفتے سے کم عرصے میں کم از کم چار جہازوں پر حملے شامل تھے۔

28نومبر کو گیمبیا کے پرچم بردار داو خالی ٹینکروں پر ڈرون حملہ ہوا،  ایک یوکرینی سیکیورٹی ذرائع نے بین الاقوامی میڈیا کو بتایا کہ یوکرینی فورسز نے مبینہ طور پر مغربی پابندیوں کی خلاف ورزی میں روسی تیل منتقل کرنے والے جہازوں کے خلاف بحری ڈرونز استعمال کیے ہیں۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے یکم دسمبر کو ان بڑھتے ہوئے حملوں کو “ تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان حالات میں انقرہ "کسی بھی صورت میں ان حملوں کو قبول نہیں کر سکتا" اور یہ  تمام متعلقہ فریقین کو وارننگ دیتا ہے۔

آبنائے استنبول    بحیرہ اسود  کو بحیرہ روم سے ملانے والا اہم راستہ ہے، جس کی وجہ سے اس خطے میں بحری سلامتی یوکرینی اناج کے برآمدات اور روسی تیل کی ترسیل دونوں کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔