ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے

میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔ میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو یہ سمجھے کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار رکھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

By
پوپ لیو چہاردہم ویٹیکن کے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں امن کے لیے دعائیہ تقریب اور روزری کی صدارت کر رہے ہیں۔ / Reuters

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیتھولک چرچ کے چودہویں عالمی سربراہ 'پوپ لیو' پر کڑی تنقید کی اور کہا ہے کہ امریکی پوپ کو "انتہا پسند بائیں بازو والوں کی خوشامد کرنا" بند کر دینی چاہیے۔

ٹرمپ کا یہ بیان دنیا کے بااثر ترین مذہبی رہنماؤں میں سے ایک اور کیتھولک چرچ کے عالمی سربراہ  کے خلاف ایک غیر معمولی حملہ ہے۔ اس بیان نے ایران جنگ کی وجہ سے پیدا ہونے والی دشمنی کو مزید ہوا دے دی ہے۔

صدر ٹرمپ  نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان  میں کہا ہے کہ "پوپ لیو جرائم کے معاملے میں کمزور اور خارجہ پالیسی میں انتہائی بُرے ہیں۔" اس بیان سے  کچھ ہی دیر بعد اتوار کے روز 'جوائنٹ بیس اینڈریوز' پر ایئر فورس ون سے اترتے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا تھا کہ "میرا نہیں خیال کہ وہ کوئی اچھا کام کر رہے ہیں۔ میں پوپ لیو کا مداح نہیں ہوں۔ میں ایسا پوپ نہیں چاہتا جو یہ سمجھے کہ ایران کا ایٹمی ہتھیار رکھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔"

"قادرِ مطلق ہونے کا وہم"

ٹرمپ کا یہ ردعمل پوپ لیو کےگذشتہ ہفتے کے آخر میں جاری کردہ  بیان کے بعد سامنے آیا ہے۔ بیان میں پوپ لیو  نے کہا تھا کہ امریکہ۔اسرائیل ایران جنگ کو ہوا دینے والا پہلو "قادرِ مطلق ہونے کا وہم" ہے اور میں اس کی مذّمت  کرتا ہوں۔ انہوں نے  سیاسی رہنماؤں سے جنگ روک کر امن مذاکرات کرنے کی اپیل کی تھی۔

پوپ نے سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں شام کی دعا کی صدارت ایک ایسے وقت میں کی جب ایک نازک جنگ بندی کے ماحول کے دوران پاکستان میں   امریکہ۔ ایران بالمشافہ مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ اگرچہ امریکی نژاد پوپ نے اپنی دعا میں ریاستہائے متحدہ امریکہ یا ٹرمپ کا نام نہیں لیا لیکن ان کا لہجہ اور پیغام براہِ راست ٹرمپ اور امریکی حکام کو نشانہ بناتا ہوا محسوس ہوا تھا۔