ٹرمپ کی طرف سے غزہ بورڈ آف پیس کے بانی چیئر مین کے لیے ترک صدر کو دعوت نامہ

سربراہ اطلاعات: " 16جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، بانی چیئرمین کی حیثیت سے، ہمارے صدر جناب رجب طیب ایردان کو 'بورڈ آف پیس' کا بانی رکن بننے کی دعوت پر مبنی ایک خط بھیجا ہے۔"

By
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ 16 جنوری 2026 کو واشنگٹن ڈی سی، امریکہ میں وائٹ ہاؤس میں دیہی صحت پر ایک گول میز کانفرنس میں شریک ہیں۔ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کے لیے 'بورڈ آف پیس' کے بانی چیئرمین کی حیثیت سے ترک صدر رجب طیب ایردوان کو اس بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

سربراہِ اطلاعات ترکیہ برہان الدین دُوران نے ترکیہ کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر ایک پوسٹ میں کہا ہے  کہ" 16جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے، بانی چیئرمین کی حیثیت سے، ہمارے صدر جناب رجب طیب ایردوان کو 'بورڈ آف پیس' کا بانی رکن بننے کی دعوت پر مبنی ایک خط بھیجا ہے۔"

دُوران نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد 2803 میں اس جامع منصوبے برائے خاتمہ تنازعِ غزہ کی حمایت کی ہے ، جسے ٹرمپ نے پیش کیا تھا اور جس کے نتیجے میں جنگ بندی عمل میں آئی۔ ، انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی سیکیورٹی اور تعمیرِ نو کو یقینی بنانے کے لیے 'بورڈ آف پیس' اور اس کے ادارے قائم کیے جا رہے ہیں۔

غزہ جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ

امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف نے بدھ کو اعلان کیا کہ غزہ میں جنگ ختم کرنے کے ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے حصے کے طور پر جنگ بندی کے معاہدے کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے منصوبے کا اگلا مرحلہ "باضابطہ طور پر" شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بورڈ آف پیس" کے چیئرمین کی حیثیت سے میں،  نئی نامزد کردہ فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت، 'قومی کمیٹی برائے انتظامِ غزہ' کی حمایت کر رہا ہوں، جو بورڈ کے اعلیٰ نمائندے کی معاونت سے عبوری دور میں غزہ کی انتظامیہ سنبھالے گی۔

"یہ فلسطینی رہنما ایک پرامن مستقبل کے لیے مضبوط عزم رکھتے ہیں!"

ٹرمپ نے کہا کہ مصر، ترکیہ اور قطر کی حمایت سے حماس کے ساتھ ایک 'جامع غیر مسلح کرنے کا معاہدہ' طے کیا جائے گا۔

'ورڈ آف پیس

وائٹ ہاؤس نے یہ بھی اعلان کیا کہ 'بورڈ آف پیس' کے تحت حکمرانی اور خدمات کی فراہمی کی معاونت کے لیے ایک ایگزیکٹو بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے۔

جس میں ترک وزیرِ خارجہ حاان  فیدان؛ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف؛ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر؛ سابق برطانوی وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر؛ متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت برائے بین الاقوامی تعاون ریم الحشمی؛ تجربہ کار قطری سفارت کار علی الثوادی؛ مصر کے انٹیلی جنس سربراہ حسن رشاد؛ سابق اقوامِ متحدہ کے نمائندے نیکولائے ملادینوف؛ قبرصی-اسرائیلی کاروباری شخصیت یاکر گابے؛ اور ڈچ سیاسی شخصیت سیگرڈ کاگ شامل ہیں۔