سیاست
2 منٹ پڑھنے
ایرانی سفیر کا احتجاجات کے درمیان سیکیورٹی مستحکم ہونے کا دعویٰ
میر مسعود حسین یان: حکومت اقتصادی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر عزم ہے، انہوں نے غیر ملکی اداروں پر مسالمت آمیز احتجاجوں کی حمایت کے بہانے ہنگامہ آرائی کرنے کا الزام لگایا۔
ایرانی سفیر کا احتجاجات کے درمیان سیکیورٹی مستحکم ہونے کا دعویٰ
ایرانی سفیر کا کہنا ہے کہ حالیہ مظاہروں کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے۔ / AFP
17 جنوری 2026

ایرانی سفیر برائے تیونس نے کہا کہ "انسانی زندگی کا مطالبہ جائز ہے" اور دعویٰ کیا کہ ایران خصوصاً تہران میں اس وقت سیکیورٹی مستحکم ہے۔

میر مسعود حسین یان نے تونس میں اپنی رہائش گاہ پر ایک نیوز کانفرنس میں کہا، "حکومت معاشی مسائل حل کرنے اور مکالمے کے ذریعے حالات بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔"

حسین یان نے نوٹ کیا کہ ایران پر عائد پابندیوں اور بلند افراطِ زر کے باوجود انتظامیہ اصلاحات اور فیصلہ جاتی پیکجز کے ذریعے معاشی صورتِ حال بہتر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا  حالیہ مظاہروں کے بعد سیکیورٹی کی صورتحال قابو میں ہے، جو زندگی کے حالات کے بگڑنے کے سبب شروع ہوئے تھے۔

سفیر نے کہا کہ شہری اور سیاسی معاشرے کے ساتھ مکالمہ عوامی توقعات پوری کرنے، ترقی کو مضبوط کرنے اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کو یقینی بنانے کا سب سے مؤثر راستہ ہے۔

بدامنی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، حسین یان نے بیرونی مداخلت کو حالات مزید  بگاڑنے  کا ذمہ دار ٹہرایا اور زور دیا کہ کچھ غیر ملکی حکام اور سیاستدانوں کے بیانات نے پر امن مظاہرے کے حق کے بہانے شہری نافرمانی اور تشدد کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے ان مداخلتوں کو 'خارجی ماخذ' سے متعلق کوششیں کہا جو بدامنی پھیلانے اور نظام کو نشانہ بنانے کے لیے گروپوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کی کوششیں ہیں۔

مظاہرے 28 دسمبر کو شروع ہوئے، جن کا آغاز مقامی کرنسی کی تیزی سے قدر کھونے اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے سبب ہوا، اور یہ تہران کے گرینڈ بازار سے شروع ہو کر پورے ملک میں پھیل گئے۔

 

دریافت کیجیے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
مہاجر کشتی یونانی ساحلی گارڈ کے جہاز سے ٹکرا گئی ، کم از کم 14 افراد ہلاک
شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری امن کی ضمانت ہے:ترکیہ
بھارت میں ’نیپا‘ وائرس کا پھیلاؤ
انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے
جاوا میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی
سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
یوکرین، روس اور امریکی نمائندے ابو ظہبی میں امن مذاکرات میں شرکت
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
نامعلوم ڈرون اسلحہ گودام کے قریب تباہ،پولش فوج چوکناہو گئی
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے
جرمنی: یورپ کو زیادہ خود مختار اور باہم متحدہ ہو جانا چاہیئے