دنیا
3 منٹ پڑھنے
آسٹریلیا: ہرزوگ کا دورہ ختم، احتجاجی مظاہرے شروع
فلسطین کے حامی، اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ کے چار روزہ دورہ ملبورن کے خلاف، سڑکوں پر نکل آئے
آسٹریلیا: ہرزوگ کا دورہ ختم، احتجاجی مظاہرے شروع
مظاہرین نے میلبورن کے فلنڈرز اسٹریٹ اسٹیشن پر اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کے آسٹریلیا کے دورے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں، 9 فروری 2026۔ / Reuters

آسٹریلیا میں فلسطین کے حامی، اسرائیل کے صدر آئزک ہرزوگ کے چار روزہ دورہ ملبورن مکمل ہونے کے بعد، آج بروز  جمعرات احتجاجی مظاہرے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اس مظاہرے سے قبل  کینبرا میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے جا چُکے ہیں اور سڈنی میں مظاہرین اور  پولیس کے درمیان  پُرتشدد جھڑپیں ہو چکی ہیں۔

آسٹریلیا کے بونڈی ساحل پر  ہنوکا کی تقریب پر کئے گئے  14 دسمبر کے مہلک حملے کے بعد وزیر اعظم انتھونی البینیز  کی دعوت پر کیا گیا یہ دورہ ملک بھر میں مباحث کا سبب بن گیا ہے۔

ناقدین، ہرزوگ کو  غزہ میں اسرائیلی عسکری جارحیت  کا قصوروار ٹھہرا رہے اور اقوامِ متحدہ کے  تحقیقاتی کمیشن کی، اسرائیلی عہدیداروں کی طرف سے نسل کشی کی اشتعال انگیزی  سے متعلقہ، رپورٹوں کا حوالہ دے رہے ہیں۔   تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو 'بدنام کُن' اور جھوٹا قرار دیا  اور ان کی تردید کی ہے۔

آج بروز جمعرات ملبورن کے بڑے ٹرین اسٹیشن کے قریب متوقع مظاہرے کے منتظم 'فلسطین کے لئے آزادی' نامی گروپ کی ڈپٹی چیئر مین جیسمین ڈف نے کہا ہے کہ "تمام آسٹریلیوی   شہریوں کے لیے ہمارا پیغام نہایت سادہ ہے اور وہ یہ کہ یہ وقت  مارچ کرنے کا وقت ہے۔ یہ احتجاج اُن تمام  فلسطینیوں کے لئے ہے  جو قتل کئے جا چکے ہیں اور جو زندہ ہیں لیکن  بھوک کا سامنا کر رہے ہیں"۔

ملبورن یونیورسٹی میں ہرزوگ کی موت کا مطالبہ کرنے والے گرافٹیوں کو بھی   پولیس کے حوالے کر دیا  گیا ہے تاہم حکام نے کہا ہے کہ منصوبہ بند احتجاج سے ان کے  تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔

پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس استعمال کی

ہفتے کے آغاز  میں سڈنی اور کینبرا کا دورہ کرنے والے اسرائیل کے صدر ہرزوگ آئزک  نے کہا ہے کہ آسٹریلیا میں 'خوفناک' سطح پر یہودی دشمنی دیکھی جا رہی ہے لیکن   زیادہ تر آسٹریلوی امن اور گفت و شنید کے خواہش مند  ہیں۔ ہرزوگ نے نسل کشی کے الزامات کو بھی 'جھوٹ' قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ سڈنی میں سوموار کے احتجاجی مظاہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں اور 27 افراد کی گرفتاری کے بعد  تناؤ شدت اختیار کر گیا  اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا  تھا۔

یہ مظاہرے غزہ میں نسل کُشی  جنگ کے اثرات کے مشرق وسطیٰ کی حدیں پار کر کے ایک قُطبی شکل اختیار  کرنے کا اظہار ہیں۔  اس وقت آسٹریلیا  کو بھی اظہارِ رائے کی آزادی، عوامی نظم و نسق اور بڑھتے ہوئے  معاشرتی تناؤ کے حوالے سے احتساب کا سامنا ہے۔

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن