ٹرمپ کا دعوی: امریکہ نے ایرانی بحریہ اور میزائل لانچنگ سسٹمز کو تباہ کر دیا ہے

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں میں شدید کمی آئی ہے اور اس بات کا فیصلہ کہ جنگ کب ختم کی جائے، اسرائیلی بنجامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر کیا جائے گا۔

By
تہران، ایران میں شاہران کے فیول ٹینکوں پر مبینہ حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے اور لوگ ایک تباہ شدہ گاڑی کے قریب کھڑے ہیں، 8 مارچ 2026۔ / Reuters

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے ایران کے تمام بحری جہاز غرق کر دیے ہیں اور اس کے میزائل لانچ کرنے کے بیشتر اہداف تباہ کر دیے ہیں۔

فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو نمایاں طور پر کمزور کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ"ہم نے تمام ایرانی بحری جہاز غرق کر دیے ہیں اور بیشتر میزائل لانچ کرنے کے پلیٹ فارمز تباہ کر دیے ہیں، صرف بیس فی صد باقی  بچے ہیں  ۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ ختم کرنے کا فیصلہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ باہمی طور پر کریں گے۔

جب ٹائمز آف اسرائیل کے ساتھ ایک مختصر ٹیلی فون انٹرویو میں پوچھا گیا کہ کیا نیتن یاہو کو اس فیصلے میں کوئی رائے ہوگی تو ٹرمپ نے کہا: "میں سمجھتا ہوں کہ یہ باہمی ہے ۔ ہم بات کر رہے ہیں۔ میں مناسب وقت پر فیصلہ کروں گا، مگر ہر چیز کا خیال رکھا جائے گا۔"

ٹرمپ نے اس امکان پر رائے دینے سے گریز کیا کہ امریکہ کے حملے بند ہونے کے بعد اسرائیل اپنے حملے جاری رکھ سکتا ہے،  انہوں نے کہا کہ"مجھے نہیں لگتا کہ یہ ضروری ہوگا۔"

وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو کہا تھا کہ اسے توقع ہے کہ جنگ چار سے چھ ہفتوں تک جاری رہے گی، لیکن گزشتہ ہفتے کے دوران وہ ٹائم لائن تیزی سے بدل گئی ہے اور ٹرمپ نے بار ہا اپنی جنگ کے لیے مخصوص مدت طے کرنے سے انکار کیا ہے۔

علاقائی کشیدگی میں اضافہ اس وقت سے ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں 1,200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای، 150 سے زائد طالبات اور سینئر فوجی حکام شامل ہیں۔

ایران نے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے ہیں جنہوں نے خطے بھر میں امریکی اڈوں، سفارتی تنصیبات اور فوجی عملے کو نشانہ بنایا ہے، اس نے  متعدد اسرائیلی شہروں  پر بھی حملے کیے ہیں۔

ایران کے ڈراون اور میزائل حملے شدید ہوتے جا رہے ہیں، اور رپورٹس کے مطابق تہران نے  متعدد ایسے میزائل داغے ہیں جو کلسٹر بموں سے بھرے ہوئے تھے، جنہیں اسرائیل کی طرف بھیجا گیا۔

اتوار کے اوائل میں ایران کی مجلسِ خبرگانِ رہبری نے اعلان کیا کہ اس نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا رہبر منتخب کیا ہے، جو اپنے والد علی خامنہ ای کی جگہ لیں گے۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے فوراً خامنہ ای کی تقرری کی حمایت کر دی۔

ٹرمپ نے اے بی سی نیوز کے ایک علیحدہ انٹرویو میں کہا کہ چھوٹے خامنہ ای 'بغیر ہماری منظوری کے زیادہ دیر نہیں چلیں گے'۔

امریکی صدر نے کہا: 'انہیں ہماری منظوری لینی ہوگی۔ اگر وہ ہماری منظوری حاصل نہیں کرتے تو زیادہ عرصہ برقرار نہیں رہیں گے۔ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہر دس سال بعد واپس نہ جانا پڑے، جب وہاں میرا جیسا صدر نہ ہو جو یہ کام نہ کرے۔'