ترکیہ کے سنٹرل ینک کے ذخائر پہلی بار 200 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئے

ترک وزیر خزانہ مہمت شمشک: مجموعی ذخائر تقریباً 107 بلین ڈالر بڑھ کر 205.2 بلین ڈالر ہو گئے ہیں، ہم نے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ریزرو کفایتِ اطمینان حاصل کر لی ہے۔'

By
"میکرو فنانشل استحکام کو مضبوط بنانا ہماری معیشت کو جھٹکوں کے خلاف زیادہ لچکدار بناتا ہے،" ترک وزیر خزانہ کا کہنا ہے۔ / AA

جمعرات کو جاری اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ کے سینٹرل بینک کے سرکاری بین الاقوامی اثاثے  16 جنوری تک پہلی بار 200 بلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گئے ہیں ۔

بینک نے  اعلان کیا ہے کہ یہ اثاثے  4.6 فیصد یعنی  9٫1 بلین ڈالر کے اضافے کے ساتھ  گزشتہ  ہفتے کے 196.1 بلین ڈالر سے بڑھ کر 205.2 بلین ڈالر ہو گئے۔

قابلِ تبادلہ غیر ملکی کرنسیوں میں غیر ملکی کرنسی کے اثاثے گزشتہ  ہفتے کے مقابلے میں 6.7 فیصد کے اضافے سے 76.4 بلین ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے۔

بینک کے سونے کے ذخائر، اسی دورانیہ میں 3.7 فیصد کے اضافے سے  121 بلین ڈالر   تک ہیں۔

دریں اثنا، مجموعی آئی ایم ایف ریزرو پوزیشن اور خصوصی ڈرائنگ رائٹس 0.2 فیصد کم ہو کر 7.7 بلین ڈالر رہ گئے۔

ترک وزیرِ خزانہ مہمت شمشیک نے بتایا ہے کہ  عمل درآمدکردہ پروگرام کے باعث مجموعی ذخائر تقریباً 107 بلین ڈالر بڑھ کر 205.2 بلین ڈالر ہو گئے۔

شمشیک نے ترکیہ کے  سوشل میڈیا پلیٹ فارم NSosyal پر لکھا، 'سویپس کو نکال کر نیٹ ذخائر میں اضافہ 139.3 بلین ڈالر تھا۔ ہم نے بین الاقوامی معیارات کے مطابق ریزرو کفایتِ اطمینان حاصل کر لی ہے۔'

اسی دوران، انہوں نے کہا کہ ترکیہ143 بلین ڈالر کی ممکنہ بوجھ  سے باہر نکلنے کا عمل مکمل کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں غیر ملکی زرمبادلہ کی پوزیشن میں مجموعی بہتری 280 بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

شمشیک نے مزید کہا، ''میکرو فنانشل استحکام کو مضبوط کرنا ہمارے رسک پریمیم میں نمایاں کمی اور ہماری معیشت کو جھٹکوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنا  رہا ہے۔''